🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

Join Whatsapp Channel
صحیح ابن حبان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرسالہ سے تلاش کل احادیث (7491)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربي لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربي لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

20. ذكر البيان بأن النخل إذا أبرت والعبد الذي له مال إذا بيعا يكون الثمر والمال للبائع ما لم يتقدم للمبتاع فيه الشرط-
بیع کا بیان - بیان کہ اگر کھجور کے درخت گبھا نکلنے کے بعد یا ایسا غلام جس کے پاس مال ہے بیچا جائے تو پھل اور مال بیچنے والے کا ہوگا جب تک خریدار کے حق میں شرط نہ ہو۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4923
أَخْبَرَنَا الْفَضْلُ بْنُ الْحُبَابِ ، حَدَّثَنَا مُسَدَّدُ بْنُ مُسَرْهَدٍ ، عَنْ سُفْيَانَ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ سَالِمٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، يَبْلُغُ بِهِ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " مَنْ بَاعَ نَخِيلا بَعْدَ أَنْ تُؤَبَّرَ فَثَمَرَتُهَا لِلَّذِي بَاعَهَا إِلا أَنْ يَشْتَرِطَ الْمُبْتَاعُ، وَمَنْ بَاعَ عَبْدًا وَلَهُ مَالٌ فَمَالُهُ لِلَّذِي بَاعَهُ إِلا أَنْ يَشْتَرِطَ الْمُبْتَاعُ" .
سالم اپنے والد (سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما) کا یہ بیان نقل کرتے ہیں، ان تک نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان پہنچا ہے: جو شخص پیوندکاری ہو جانے کے بعد کھجور کا درخت فروخت کرتا ہے تو اس کا پھل فروخت کرنے والے کی ملکیت ہو گا، البتہ اگر خریدار نے اس کی شرط عائد کی ہو (تو حکم مختلف ہے) اور جو شخص کوئی غلام فروخت کرے جس کے پاس مال موجود ہو تو اس کا مال فروخت کرنے والے کی ملکیت ہو گا، البتہ اگر خریدار نے شرط عائد کی ہو (تو حکم مختلف ہو گا)۔ [صحیح ابن حبان/كِتَابُ البُيُوعِ/حدیث: 4923]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 2204، 2206، 2379، 2716، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 1543، وابن الجارود فى "المنتقى"، 684، 685، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 4922، 4923، 4924، وأبو داود فى (سننه) برقم: 3433، والترمذي فى (جامعه) برقم: 1244، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 2210، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 7444، وأحمد فى (مسنده) برقم: 4589، والحميدي فى (مسنده) برقم: 625» «رقم طبعة با وزير 4902»

الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح: ق - انظر ما قبله.
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده صحيح على شرط البخاري
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں