صحیح ابن حبان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
28. باب بيع المدبر - ذكر البيان بأن قول جابر إن رجلا من الأنصار أعتق غلاما له أراد به أعتق غلاما له عن دبر دون العتق البتات-
بیعِ مدبر کا بیان - بیان کہ جابر رضی اللہ عنہ کا قول «أعتق غلاما له» سے مراد تدبیر کے ساتھ آزاد کرنا ہے نہ کہ مکمل آزادی۔
حدیث نمبر: 4931
أَخْبَرَنَا أَبُو عَرُوبَةَ بِحَرَّانَ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مِسْكِينٍ الْيَمَامِيُّ ، قَالَ: أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ ، عَنْ سُفْيَانَ ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ ، عَنْ جَابِرٍ ، أَنَّ رَجُلا مِنَ الأَنْصَارِ يُقَالُ لَهُ: أَبُو مَذْكُورٍ دَبَّرَ غُلامًا لَهُ، فَبَلَغَ ذَلِكَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ:" لَهُ مَالُ غَيْرِهِ"، قَالُوا: لا، قَالَ: " مَنْ يَشْتَرِيهِ مِنِّي؟" فَاشْتَرَاهُ نُعَيْمٌ النَّحَّامُ بِثَمَانِ مِائَةِ دِرْهَمٍ، وَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" أَنْفِقْهَا عَلَى نَفْسِكَ، فَإِنْ كَانَ فَضْلا فَعَلَى أَقَارِبِكَ، فَإِنْ كَانَ فَضْلا فَهَهُنَا وَهَهُنَا" .
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ انصار سے تعلق رکھنے والے ایک صاحب جن کا نام ابومذکور تھا، انہوں نے اپنے ایک غلام کو مدبر کر دیا، اس بات کی اطلاع نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو ملی تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا: ”کیا اس کے پاس اس غلام کے علاوہ کوئی اور مال ہے؟“ لوگوں نے جواب دیا: جی نہیں، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت فرمایا: ”اس غلام کو مجھ سے کون خریدے گا؟“ چنانچہ سیدنا نعیم نحام رضی اللہ عنہ نے اسے آٹھ سو درہم کے عوض میں خرید لیا، پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”اس رقم کو تم اپنے اوپر خرچ کرو، اگر اضافی ہو تو اپنے رشتہ داروں پر خرچ کرو، اگر اضافی ہو تو ادھر اُدھر (یعنی اللہ کی راہ میں) خرچ کرو۔“ [صحیح ابن حبان/كِتَابُ البُيُوعِ/حدیث: 4931]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 2141، 2230، 2231، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 997، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 2445، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 3339، 3342، 4234، 4929، 4930، 4931، 4932، 4933، 4934، وأبو داود فى (سننه) برقم: 3955، والترمذي فى (جامعه) برقم: 1219، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 2512، 2513، وسعيد بن منصور فى (سننه) ترقيم الدرالسلفية برقم:، 439، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 7849، والدارقطني فى (سننه) برقم: 4258، وأحمد فى (مسنده) برقم: 14349» «رقم طبعة با وزير 4910»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح - «الإرواء» (833)، «أحاديث البيوع»: م.
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده صحيح على شرط مسلم