🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

Join Whatsapp Channel
صحیح ابن حبان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرسالہ سے تلاش کل احادیث (7491)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربي لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربي لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

73. باب البيع المنهي عنه - ذكر وصف بيع الملامسة وكيفية المنابذة-
ممنوعہ بیوع کا بیان - بیعِ ملامسہ کی صورت اور منابذہ کا طریقہ بیان کرنا
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4976
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ قُتَيْبَةَ بِعَسْقَلانَ، قَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي السَّرِيِّ ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، قَالَ: أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَزِيدَ اللَّيْثِيِّ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، قَالَ:" نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ بَيْعَتَيْنِ الْمُلامَسَةِ وَالْمُنَابَذَةِ"، فَالْمُنَابَذَةُ هُوَ أَنْ يَقُولَ: إِذَا نَبَذْتُ إِلَيْكَ هَذَا الثَّوْبَ، فَقَدْ وَجَبَ الْبَيْعُ، وَالْمُلامَسَةُ أَنْ يَمَسَّهُ بِيَدِهِ، وَلا يَنْشُرُهُ، وَلا يُقَلِّبُهُ، يَقُولُ: إِذَا مَسَّهُ وَجَبَ الْبَيْعُ، قَالَ أَبُو حَاتِمٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ: الْمُنَابَذَةُ أَنْ يَنْبِذَ الْمُشْتَرِي ثَوْبًا إِلَى الْبَائِعِ، وَيَنْبِذَ الْبَائِعُ إِلَى الْمُشْتَرِي ثَوْبًا لِيَبِيعَ أَحَدَهُمَا وَصَلَهُ عَلَى أَنَّهُمَا إِذَا وَقَفَا بَعْدَ ذَلِكَ عَلَى الطُّولِ وَالْعَرْضِ لا يَكُونُ لَهُمَا الْخِيَارُ إِلا ذَلِكَ النَّبْذُ فَقَطْ، وَالْمُلامَسَةُ أَنْ يَلْمِسَ الْمُشْتَرِي الثَّوْبَ، ثُمَّ يَشْتَرِيَهُ عَلَى أَنْ لا خِيَارَ بَعْدَ ذَلِكَ إِذَا نَشَرَهُ وَقَلَّبَهُ سِوَى ذَلِكَ اللَّمْسِ.
سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دو طرح کی بیع سے منع کیا ہے: «الْمُلَامَسَةُ» ملامسہ اور «الْمُنَابَذَةُ» منابذہ۔ (راوی کہتے ہیں:) «الْمُنَابَذَةُ» منابذہ یہ ہے کہ آدمی یہ کہے کہ جب میں تمہاری طرف یہ کپڑا پھینکوں گا، تو سودا طے ہو جائے گا۔ «الْمُلَامَسَةُ» ملامسہ یہ ہے کہ آدمی اپنے ہاتھ کے ذریعے اسے چھوئے، اسے کھولے نہیں، اسے پلٹے نہیں اور یہ کہے کہ جیسے ہی اسے چھو لیا تو سودا لازم ہو جائے گا۔ (امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں:) «الْمُنَابَذَةُ» منابذہ یہ ہے کہ خریدار کپڑے کو فروخت کرنے والے کی طرف پھینکے اور فروخت کرنے والا کپڑے کو خریدار کی طرف پھینکے تاکہ ان دونوں کا آپس میں سودا طے ہو جائے، اس شرط پر کہ جب وہ اس کے بعد کپڑے کی لمبائی اور چوڑائی پر واقف ہوں تو انہیں سودا ختم کرنے کا کوئی اختیار نہ ہو، صرف یہ پھینکنا ہی (سودا طے ہونے کی نشانی ہو)۔ «الْمُلَامَسَةُ» ملامسہ یہ ہے کہ خریدار کپڑے کو چھو لے تو پھر اسے خریدے اس شرط پر کہ اس کے بعد اس کے پاس اختیار باقی نہیں رہے گا، یعنی جب وہ اسے کھولے گا اور جب اسے الٹائے گا (تو اختیار نہیں ہو گا)، صرف چھونا کافی ہو گا۔ [صحیح ابن حبان/كِتَابُ البُيُوعِ/حدیث: 4976]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 367، 2144، 2147، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 1512، وابن الجارود فى "المنتقى"، 645، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 4976، 5427، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 4522، وأبو داود فى (سننه) برقم: 3377، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 2170، 3559، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 3256، وأحمد فى (مسنده) برقم: 11179» «رقم طبعة با وزير 4955»

الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح: خ (2147).
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
حديث صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں