صحیح ابن حبان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
109. باب الربا - ذكر البيان بأن بيع الأشياء التي وصفناها بأجناسها وبينهما فضل ربا-
سود کا بیان - بیان کہ مذکورہ اشیاء کو اپنی جنس کے بدلے کمی یا زیادتی کے ساتھ بیچنا سود ہے
حدیث نمبر: 5013
أَخْبَرَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ إِدْرِيسَ الأَنْصَارِيُّ ، قَالَ: أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ ، عَنْ مَالِكٍ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ مَالِكِ بْنِ أَوْسِ بْنِ الْحَدَثَانِ ، أَنَّهُ أَخْبَرَهُ، أَنَّهُ الْتَمَسَ صَرْفًا بِمِئَةِ دِينَارٍ: قَالَ: فَدَعَانِي طَلْحَةُ بْنُ عُبَيْدِ اللَّهِ، فَتَرَاوَضْنَا حَتَّى اصْطَرَفَ مِنِّي وَأَخَذَ الذَّهَبَ يُقَلِّبُهَا فِي يَدِهِ، وَقَالَ: حَتَّى يَأْتِيَ خَازِنِي مِنَ الْغَابَةِ، وَعُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ يَسْمَعُ، فَقَالَ عُمَرُ: وَاللَّهِ لا تُفَارِقُهُ حَتَّى تَأْخُذَ مِنْهُ، ثُمَّ قَالَ عُمَرُ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " الذَّهَبُ بِالْوَرِقِ رِبًا إِلا هَاءً وَهَاءً، وَالْبُرُّ بِالْبُرِّ رِبًا إِلا هَاءً وَهَاءً، وَالتَّمْرُ بِالتَّمْرِ رِبًا إِلا هَاءً وَهَاءً، وَالشَّعِيرُ بِالشَّعِيرِ رِبًا إِلا هَاءً وَهَاءً" .
سیدنا مالک بن اوس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ انہوں نے ایک سو دینار کی بیعِ صرف کرنا چاہی، وہ کہتے ہیں کہ سیدنا طلحہ بن عبید اللہ رضی اللہ عنہ نے مجھے بلوایا، ہم دونوں نے سودا طے کر لیا، انہوں نے میرے ساتھ بیعِ صرف کر لی اور سونا حاصل کر لیا، وہ اسے اپنے ہاتھ میں الٹ پلٹ رہے تھے، انہوں نے کہا: میرا منشی غابہ (جنگل) سے آتا ہے (تو میں تمہیں ادائیگی کرتا ہوں)۔ سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے یہ بات سن لی، سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: اللہ کی قسم! تم اس سے اس وقت تک جدا نہیں ہو گے جب تک تم اس سے وصولی نہیں کر لیتے، پھر سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے بتایا کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بات ارشاد فرمائی ہے: ”چاندی کے عوض میں سونے کا لین دین سود ہے ماسوائے اس کے جو دست بدست ہو، گندم کے عوض میں گندم کا لین دین سود ہے ماسوائے اس کے جو دست بدست ہو، کھجور کے عوض میں کھجور کا لین دین سود ہے ماسوائے اس کے جو دست بدست ہو، اور جو کے عوض میں جو کا لین دین سود ہے ماسوائے اس کے جو دست بدست ہو۔“ [صحیح ابن حبان/كِتَابُ البُيُوعِ/حدیث: 5013]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 2134، 2170، 2174، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 1586، ومالك فى (الموطأ) برقم: 2336، وابن الجارود فى "المنتقى"، 708، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 5013، 5019، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 4572، وأبو داود فى (سننه) برقم: 3348، والترمذي فى (جامعه) برقم: 1243، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 2253، 2259، 2260، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 10585، وأحمد فى (مسنده) برقم: 164، والحميدي فى (مسنده) برقم: 12، 762» «رقم طبعة با وزير 4992»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح - «ابن ماجه» (2253): ق.
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده صحيح على شرط الشيخين