🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

Join Whatsapp Channel
صحیح ابن حبان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرسالہ سے تلاش کل احادیث (7491)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربي لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربي لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

110. باب الربا - ذكر الزجر عن بيع الفضة بالفضة والذهب بالذهب إلا مثلا بمثل-
سود کا بیان - چاندی کو چاندی اور سونا کو سونا کے بدلے برابری کے بغیر بیچنے سے روک کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5014
أَخْبَرَنَا الْفَضْلُ بْنُ الْحُبَابِ ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ ، قَالَ: حَدَّثَنِي عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ أَبِي بَكْرَةَ ، قَالَ: قَالَ أَبُو بَكْرَةَ :" نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يَبْتَاعَ الْفِضَّةَ بِالْفِضَّةِ وَالذَّهَبَ بِالذَّهَبِ، إِلا سَوَاءً بِسَوَاءٍ، وَأَمَرَ أَنْ يَبْتَاعَ الْفِضَّةَ بِالذَّهَبِ كَيْفَ شَاءَ، وَالذَّهَبَ بِالْفِضَّةِ كَيْفَ شَاءَ" ، قَالَ أَبُو حَاتِمٍ: قَوْلُهُ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: كَيْفَ شَاءَ أَرَادَ بِهِ إِذَا كَانَ يَدًا بِيَدٍ.
سیدنا ابوبکرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس بات سے منع فرمایا ہے کہ چاندی کے عوض میں چاندی کو یا سونے کے عوض میں سونے کو فروخت کیا جائے، البتہ برابر برابر (لین دین ہو، تو جائز ہے) اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ حکم دیا ہے کہ سونے کے عوض میں چاندی کو جیسے چاہے فروخت کر دیا جائے یا چاندی کے عوض سونے کو جیسے چاہے فروخت کر دیا جائے۔ (امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں:) نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان: جیسے چاہے اس سے مراد یہ ہے کہ جب وہ لین دین دست بدست ہو۔ [صحیح ابن حبان/كِتَابُ البُيُوعِ/حدیث: 5014]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 2175، 2182، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 1590، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 5014، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 4592، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 10613، وأحمد فى (مسنده) برقم: 20723» «رقم طبعة با وزير 4993»

الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح - «أحاديث البيوع»: ق.
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده صحيح على شرط البخاري
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں