سنن ابي داود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
101. باب مُقَامِ الإِمَامِ مِنَ الصَّفِّ
باب: صف میں امام کے کھڑے ہونے کی جگہ کا بیان۔
حدیث نمبر: 681
حَدَّثَنَا جَعْفَرُ بْنُ مُسَافِرٍ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي فُدَيْكٍ، عَنْ يَحْيَى بْنِ بَشِيرِ بْنِ خَلَّادٍ، عَنْ أُمِّهِ، أَنَّهَا دَخَلَتْ عَلَى مُحَمَّدِ بْنِ كَعْبٍ الْقُرَظِيِّ فَسَمِعَتْهُ، يَقُولُ: حَدَّثَنِي أَبُو هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" وَسِّطُوا الْإِمَامَ وَسُدُّوا الْخَلَلَ".
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”امام کو (صف کے) بیچ میں کھڑا کرو، اور خالی جگہوں کو پر کرو“۔ [سنن ابي داود/تفرح أبواب الصفوف /حدیث: 681]
جناب یحییٰ بن بشیر بن خلاد اپنی والدہ سے راوی ہیں کہ وہ محمد بن کعب قرظی کے پاس آئیں تو انہیں سنا، وہ کہہ رہے تھے کہ مجھ سے سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”امام کو (صف سے آگے) درمیان میں کھڑا کرو اور صف کے خلا کو پورا کرو۔“ [سنن ابي داود/تفرح أبواب الصفوف /حدیث: 681]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: 14600) (ضعیف)» (لیکن حدیث میں واقع دوسرا جملہ «وسدوا الخلل» صحیح ہے) (یحییٰ بن بشیر کی والدہ مجہول ہیں)
قال الشيخ الألباني: ضعيف لكن الشطر الثاني منه صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
أمة الواحد مجهولة (تقريب : 8534)
وابنھا يحيي بن بشير بن خلاد مستور (تقريب :7515)
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 37
إسناده ضعيف
أمة الواحد مجهولة (تقريب : 8534)
وابنھا يحيي بن بشير بن خلاد مستور (تقريب :7515)
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 37