سنن ابي داود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
102. باب الرَّجُلِ يُصَلِّي وَحْدَهُ خَلْفَ الصَّفِّ
باب: آدمی صف کے پیچھے اکیلا نماز پڑھے اس کے حکم کا بیان۔
حدیث نمبر: 682
حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ، وَحَفْصُ بْنُ عُمَرَ، قَالَا: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ، عَنْ هِلَالِ بْنِ يَسَافٍ، عَنْ عَمْرِو بْنِ رَاشِدٍ، عَنْ وَابِصَةَ،" أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَأَى رَجُلًا يُصَلِّي خَلْفَ الصَّفِّ وَحْدَهُ فَأَمَرَهُ أَنْ يُعِيدَ"، قَالَ سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ: الصَّلَاةَ.
وابصہ بن معبد رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک شخص کو صف کے پیچھے اکیلے نماز پڑھتے ہوئے دیکھا، تو آپ نے اسے (نماز) لوٹانے کا حکم دیا۔ سلیمان بن حرب کی روایت میں ہے ”نماز کو“ لوٹانے کا حکم دیا ۱؎۔ [سنن ابي داود/تفرح أبواب الصفوف /حدیث: 682]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن الترمذی/الصلاة 58 (230)، سنن ابن ماجہ/إقامة الصلاة 54 (1004)، (تحفة الأشراف: 11738)، وقد أخرجہ: مسند احمد 4/227، 228، سنن الدارمی/الصلاة 61 (1323) (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: صف میں جگہ ہوتے ہوئے اس میں شریک نہ ہونا اور الگ سے نماز پڑھنا ناجائز ہے، اسے نماز دہرانی پڑے گی۔ عورت کی صف علیحدہ ہو گی، خواہ وہ اکیلی ہی کیوں نہ ہو۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده صحيح
مشكوة المصابيح (1105)
مشكوة المصابيح (1105)