🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

Join Whatsapp Channel
صحیح ابن حبان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرسالہ سے تلاش کل احادیث (7491)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربي لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربي لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

11. ذكر خبر سادس يصرح بأن الإيثار في النحل بين الأولاد غير جائز-
- چھٹی خبر کا بیان جو صراحتاً واضح کرتی ہے کہ اولاد کے درمیان عطیہ میں ایثار جائز نہیں۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5107
أَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْهَمْدَانِيُّ ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الأَعْلَى ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُعْتَمِرُ بْنُ سُلَيْمَانَ ، قَالَ: قَرَأْتُ عَلَى الْفُضَيْلِ ، عَنْ أَبِي حَرِيزٍ ، أَنَّ عَامِرًا حَدَّثَهُ، أَنَّ النُّعْمَانَ بْنَ بَشِيرٍ ، قَالَ: إِنَّ وَالِدِي بَشِيرَ بْنَ سَعْدٍ أَتَى رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّ عَمْرَةَ بِنْتَ رَوَاحَةَ نُفِسَتْ بِغُلامٍ، وَإِنِّي سَمَّيْتُهُ نُعْمَانَ، وَإِنَّهَا أَبَتْ أَنْ تُرَبِّيَهُ حَتَّى جَعَلْتُ لَهُ حَدِيقَةً لِي أَفْضَلَ مَالِي هُوَ، وَإِنَّهَا قَالَتْ: أَشْهِدِ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى ذَلِكَ، فَقَالَ لَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " هَلْ لَكَ وَلَدٌ غَيْرَهُ؟" قَالَ: نَعَمْ، قَالَ:" لا تُشْهِدْنِي إِلا عَلَى عَدْلٍ، فَإِنِّي لا أَشْهَدُ عَلَى جَوْرٍ" ، قَالَ أَبُو حَاتِمٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ: تَبَايُنُ الأَلْفَاظِ فِي قِصَّةِ النَّحْلِ الَّذِي ذَكَرْنَاهُ قَدْ يُوهِمُ عَالِمًا مِنَ النَّاسِ أَنَّ الْخَبَرَ فِيهِ تَضَادٌّ وَتَهَاتُرٌ وَلَيْسَ كَذَلِكَ، لأَنَّ النَّحْلَ مِنْ بَشِيرٍ لابْنِهِ كَانَ فِي مَوْضِعَيْنِ مُتَبَايِنَيْنِ، وَذَاكَ أَنَّ أَوَّلَ مَا وَلَدُ النُّعْمَانُ أَبَتْ عَمْرَةُ أَنْ تُرَبِّيَهُ حَتَّى يَجْعَلَ لَهُ بَشِيرٌ حَدِيقَةً، فَفَعَلَ ذَلِكَ وَأَرَادَ الإِشْهَادَ عَلَى ذَلِكَ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: لا تُشْهِدْنِي إِلا عَلَى عَدْلٍ، فَإِنِّي لا أَشْهَدُ عَلَى جَوْرٍ، عَلَى مَا فِي خَبَرِ أَبِي حَرِيزٍ، تُصَرِّحُ هَذِهِ اللَّفْظَةُ أَنَّ الْحَيْفَ فِي النَّحْلِ بَيْنَ الأَوْلادِ غَيْرُ جَائِزٍ، فَلَمَّا أَتَى عَلَى الصَّبِيِّ مُدَّةٌ، قَالَتْ عَمْرَةُ لِبَشِيرٍ: انْحَلِ ابْنِي هَذَا؟ فَالْتَوَى عَلَيْهِ سَنَةً أَوْ سَنَتَيْنِ عَلَى مَا فِي خَبَرِ أَبِي حَيَّانَ التَّيْمِيِّ وَالْمُغِيرَةِ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، فَنَحَلَهُ غُلامًا، فَلَمَّا جَاءَ الْمُصْطَفَى صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِيُشْهِدَهُ، قَالَ: لا تُشْهِدْنِي عَلَى جَوْرٍ، وَيُشْبِهُ أَنْ يَكُونَ النُّعْمَانُ قَدْ نَسِيَ الْحُكْمَ الأَوَّلَ أَوْ تَوَهَّمَ أَنَّهُ قَدْ نُسِخَ، وَقَوْلُهُ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: لا تُشْهِدْنِي عَلَى جَوْرٍ، فِي الْكَرَّةِ الثَّانِيَةِ زِيَادَةُ تَأْكِيدٍ فِي نَفْيِ جَوَازِهِ، وَالدَّلِيلُ عَلَى أَنَّ النَّحْلَ فِي الْغُلامِ لِلنُّعْمَانِ كَانَ ذَلِكَ وَالنُّعْمَانُ مُتَرَعْرِعٌ، أَنَّ فِيَ خَبَرِ عَاصِمٍ عَنِ الشَّعْبِيِّ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ لَهُ: مَا هَذَا الْغُلامُ؟ قَالَ: غُلامٌ أَعْطَانِيهِ أَبِي، فَدَلَّتْكَ هَذِهِ اللَّفْظَةُ عَلَى أَنَّ هَذَا النَّحْلَ الَّذِي فِي خَبَرِ أَبِي حَرِيزٍ فِي الْحَدِيقَةِ، لأَنَّ ذَلِكَ عِنْدَ امْتِنَاعِ عَمْرَةَ عَنْ تَرْبِيَةِ النُّعْمَانِ عِنْدَمَا وَلَدَتْهُ ضِدَّ قَوْلِ مَنْ زَعَمَ أَنَّ أَخْبَارَ الْمُصْطَفَى صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَتَضَادُّ وَتَهَاتَرُ، وَأَبُو حَرِيزٍ كَانَ قَاضِيَ سِجِسْتَانَ.
سیدنا نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں: میرے والد سیدنا بشیر بن سعد رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے، انہوں نے عرض کی: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! (میری اہلیہ) سیدہ عمرہ بنت رواحہ رضی اللہ عنہا کے ہاں بچہ پیدا ہوا، میں نے اس کا نام نعمان رکھا ہے، اس نے اس بچے کی پرورش کرنے سے انکار کر دیا جب تک میں اس بچے کو اپنا وہ باغ نہیں دیتا جو (میرا) سب سے بہترین مال ہے، اور اس عورت نے یہ کہا: کہ آپ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو اس بارے میں گواہ بنا لیں، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا بشیر رضی اللہ عنہ سے دریافت فرمایا: کیا تمہاری اس کے علاوہ اور اولاد بھی ہے؟ انہوں نے جواب دیا: جی ہاں، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم مجھے صرف انصاف کے کام میں گواہ بناؤ، میں زیادتی کے کام میں گواہ نہیں بنتا۔ (امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں:) عطیہ دینے کا یہ جو واقعہ ہم نے ذکر کیا ہے اس کے الفاظ میں اختلاف پایا جاتا ہے جس نے ایک عالم کو اس غلط فہمی میں مبتلا کیا کہ اس روایت میں شاید تضاد پایا جاتا ہے حالانکہ ایسا نہیں ہے؛ کیونکہ یہ عطیہ جو سیدنا بشیر رضی اللہ عنہ نے اپنے بیٹے کو دیا تھا یہ دو مختلف مقامات پر منقول ہے۔ وہ یوں کہ جب پہلی مرتبہ سیدنا نعمان رضی اللہ عنہ پیدا ہوئے تو ان کی والدہ سیدہ عمرہ رضی اللہ عنہا نے ان کی تربیت کرنے سے اس وقت تک انکار کر دیا جب تک سیدنا بشیر رضی اللہ عنہ انہیں کوئی باغ عطیے کے طور پر نہیں دیتے تو انہوں نے ایسا ہی کیا۔ انہوں نے اس بارے میں گواہ بنانے کا ارادہ کیا تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم صرف انصاف کے کام پر مجھے گواہ بناؤ کیونکہ میں زیادتی کے کام میں گواہ نہیں بنتا۔ جیسا کہ ابوحریز نامی راوی کی روایت میں یہ بات مذکور ہے اور یہ الفاظ اس بات کی صراحت کرتے ہیں کہ عطیہ دیتے ہوئے اولاد کے ساتھ امتیازی سلوک کرنا درست نہیں ہے، پھر جب بچہ بڑا ہو گیا تو سیدہ عمرہ رضی اللہ عنہا نے سیدنا بشیر رضی اللہ عنہ سے کہا: آپ میرے اس بیٹے کو کوئی عطیہ دیجیے، تو وہ ایک سال یا دو سال تک اس کو ملتوی کرتے رہے۔ جیسا کہ ابوحیان تیمی اور مغیرہ کی امام شعبی کے حوالے سے نقل کردہ روایت میں یہ بات مذکور ہے پھر انہوں نے اسے ایک غلام عطیہ کر دیا، جب وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے تاکہ انہیں اس بارے میں گواہ بنائیں تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم ظلم کے کام میں مجھے گواہ نہ بناؤ۔ تو اس بات کا احتمال موجود ہے کہ سیدنا نعمان رضی اللہ عنہ پہلا حکم بھول چکے ہوں یا انہیں یہ غلط فہمی ہوئی ہو کہ وہ حکم منسوخ ہو گیا ہے، اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان: تم ظلم کے کام میں مجھے گواہ نہ بناؤ۔ یہ دوسری مرتبہ اس کام کے جائز ہونے کی نفی میں زیادہ تاکید پیدا کرنے کے لیے ہو، اور اس بات کی دلیل کہ غلام کی صورت میں دیا جانے والا عطیہ بھی سیدنا نعمان رضی اللہ عنہ کو ہی دیا گیا تھا یہ ہے کہ عاصم نے امام شعبی کے حوالے سے روایت نقل کی ہے، اس میں یہ بات مذکور ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا نعمان رضی اللہ عنہ سے دریافت فرمایا: یہ غلام کہاں سے آیا ہے؟ انہوں نے کہا: یہ وہ غلام ہے جو میرے والد نے مجھے عطا کیا ہے، تو یہ الفاظ آپ کی رہنمائی اس بات کی طرف کریں گے کہ یہ عطیہ اس عطیے کے علاوہ تھا جس کا ذکر ابوحریز کی نقل کردہ روایت میں کیا گیا ہے جو باغ کے بارے میں ہے؛ کیونکہ (سیدنا نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہ کی والدہ) سیدہ عمرہ رضی اللہ عنہا کا ان کی تربیت کرنے سے انکار کرنا اس وقت تھا جب ان کی پیدائش ہوئی تھی۔ یہ بات اس شخص کے موقف کے برخلاف ہے جو اس بات کا قائل ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے حوالے سے منقول روایات متضاد ہیں اور ان میں اختلاف پایا جاتا ہے۔ ابوحریز نامی راوی سجستان کے قاضی تھے۔ [صحیح ابن حبان/كِتَابُ الهِبَةِ/حدیث: 5107]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 2586، 2587، 2650، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 1623، ومالك فى (الموطأ) برقم: 2782، وابن الجارود فى "المنتقى"، 1065، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 5097، 5098، 5099، 5100، 5102، 5103، 5104، 5105، 5106، 5107، وأبو داود فى (سننه) برقم: 3542، 3543، 3544، والترمذي فى (جامعه) برقم: 1367، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 2375، 2376، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 12115، والدارقطني فى (سننه) برقم: 2962، وأحمد فى (مسنده) برقم: 18645» «رقم طبعة با وزير 5085»

الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
منكر بهذا السياق.
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
Null
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں