صحیح ابن حبان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
21. ذكر جواز أكل الصدقة التي تصدق بها على إنسان ثم أهداها المتصدق عليه له وإن كان ممن لا يحل له أخذ الصدقة ولا أكلها-
- اس بات کا بیان کہ اگر کوئی چیز کسی کو صدقہ میں دی گئی ہو اور وہی شخص بعد میں اسے کسی ایسے کو ہدیہ کر دے جس کے لیے صدقہ حلال نہیں، تب بھی اس کے لیے اسے کھانا جائز ہے۔
حدیث نمبر: 5117
أَخْبَرَنَا ابْنُ قُتَيْبَةَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ مَوْهَبٍ ، قَالَ: حَدَّثَنِي اللَّيْثُ بْنُ سَعْدٍ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، أَنَّ عُبَيْدَ بْنَ السَّبَّاقِ زَعَمَ، أَنَّ جُوَيْرِيَةَ زَوْجَةَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَخْبَرَتْهُ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ دَخَلَ عَلَيْهَا، فَقَالَ: " هَلْ مِنْ طَعَامٍ؟" قَالَتْ: لا وَاللَّهِ يَا رَسُولَ اللَّهِ، مَا عِنْدَنَا طَعَامٌ إِلا عَظْمَ شَاةٍ أُعْطِيَتْ مَوْلاتِي مِنَ الصَّدَقَةِ، قَالَ:" قَرِّبِيهِ، فَقَدْ بَلَغَتْ مَحِلَّهَا" .
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی زوجہ محترمہ سیدہ جویریہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ان کے ہاں تشریف لائے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت فرمایا: ”کیا کھانے کے لیے کچھ ہے؟“ اس خاتون نے عرض کی: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! اللہ کی قسم نہیں ہے، ہمارے پاس کوئی کھانا نہیں ہے صرف ایک بکری کی ہڈی (والا گوشت) ہے جو میری کنیز کو صدقے کے طور پر دیا گیا تھا۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”وہی پیش کر دو کیونکہ وہ اپنے مقام تک پہنچ چکا ہے۔“ [صحیح ابن حبان/كِتَابُ الهِبَةِ/حدیث: 5117]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه مسلم فى (صحيحه) برقم: 1073، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 5117، 5118، والحاكم فى (مستدركه) برقم: 6870، وأحمد فى (مسنده) برقم: 28063، والحميدي فى (مسنده) برقم: 319» «رقم طبعة با وزير 5095»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح: م.
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده صحيح