🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

Join Our Whatsapp Channel
صحیح ابن حبان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرسالہ سے تلاش کل احادیث (7491)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربي لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربي لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

8. ذكر الخبر الدال على إباحة أخذ الأجرة على سكنى بيوت مكة-
- یہ خبر جو اس بات پر دلالت کرتی ہے کہ مکہ کے گھروں کے کرایے پر لینا جائز ہے۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5149
أَخْبَرَنَا ابْنُ قُتَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى ، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنَا يُونُسُ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ حُسَيْنٍ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ عُثْمَانَ ، عَنْ أُسَامَةَ بْنِ زَيْدٍ ، أَنَّهُ قَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ،" انْزِلْ فِي دَارِكَ بِمَكَّةَ، قَالَ: " وَهَلْ تَرَكَ لَنَا عَقِيلٌ مِنْ رِبَاعٍ أَوْ دُورٍ؟" وَكَانَ عَقِيلٌ وَرِثَ أَبَا طَالِبٍ هُوَ وَطَالِبٌ، وَلَمْ يَرِثْهُ جَعْفَرٌ وَلا عَلِيٌّ شَيْئًا لأَنَّهُمَا كَانَا مُسْلِمَيْنِ، وَكَانَ عَقِيلٌ وَطَالِبٌ كَافِرَيْنِ، فَكَانَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ مِنْ أَجْلِ ذَلِكَ، يَقُولُ: لا يَرِثُ الْمُؤْمِنُ الْكَافِرَ".
سیدنا اسامہ بن زید رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ انہوں نے عرض کی: ”یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! کیا آپ مکہ میں اپنے گھر میں پڑاؤ کریں گے؟“ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت فرمایا: ”کیا عقیل نے ہمارے لیے کوئی رہائشی جگہ چھوڑی ہے؟“ (راوی بیان کرتے ہیں) جناب عقیل اور جناب طالب، جناب ابوطالب کے وارث ہوئے تھے، سیدنا جعفر رضی اللہ عنہ اور سیدنا علی رضی اللہ عنہ ان کے وارث نہیں بنے تھے، کیونکہ یہ دونوں صاحبان مسلمان تھے جبکہ جناب عقیل اور جناب طالب کفر کے عالم میں فوت ہوئے تھے۔ اسی وجہ سے سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ یہ فرماتے تھے: ”کوئی مومن کسی کافر کا وارث نہیں بنتا۔“ [صحیح ابن حبان/كِتَابُ الإِجَارَةِ/حدیث: 5149]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 1588، 3058، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 1351، ومالك فى (الموطأ) برقم: 1891، وابن الجارود فى "المنتقى"، 1026، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 2985، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 5149، 6033، والحاكم فى (مستدركه) برقم: 2962، وأبو داود فى (سننه) برقم: 2010، 2909، 2910، والترمذي فى (جامعه) برقم: 2107، 2107 م، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 2729، وسعيد بن منصور فى (سننه) برقم: 135، والدارقطني فى (سننه) برقم: 3028، وأحمد فى (مسنده) برقم: 22161، والحميدي فى (مسنده) برقم: 551» «رقم طبعة با وزير 5127»

الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح - «صحيح أبي داود» (1754 و 2585): ق. فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط إسناده صحيح على شرط مسلم
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں