🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

Join Our Whatsapp Channel
صحیح ابن حبان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرسالہ سے تلاش کل احادیث (7491)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربي لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربي لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

7. ذكر خبر قد يوهم غير المتبحر في صناعة العلم أن إجارة الأرض بالدراهم غير جائزة-
- یہ خبر جو بعض ناسمجھ لوگوں کو یہ وہم دیتی ہے کہ زمین کو دراہم (نقدی) کے بدلے کرایہ پر دینا جائز نہیں۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5148
أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا حِبَّانُ ، قَالَ: أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ ، قَالَ: أَخْبَرَنَا عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ أَبِي سُلَيْمَانَ ، عَنْ عَطَاءٍ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَنْ كَانَتْ لَهُ أَرْضٌ فَلْيَزْرَعْهَا، فَإِنْ لَمْ يَسْتَطِعْ أَنْ يَزْرَعَهَا فَلْيَمْنَحْهَا أَخَاهُ، وَلا يُؤَاجِرْهَا إِيَّاهُ" ، قَالَ أَبُو حَاتِمٍ: قَوْلُهُ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: وَلا يُؤَاجِرْهَا إِيَّاهُ، لَفْظَةُ زَجْرٍ عَنْ فِعْلٍ قُصِدَ بِهَا النَّدْبُ وَالإِرْشَادُ، لأَنَّ الْقَوْمَ كَانَ بِهِمُ الضِّيقُ فِي الْعَيْشِ وَالْمِنْحَةُ كَانَتْ أَوْقَعَ عِنْدَهُمْ لِلأَرْضِ مِنْ إِكْرَائِهَا، فَأَمَّا الْمُسْلِمُونَ فَإِنَّهُمْ مُجْمِعُونَ عَلَى جَوَازِ كَرْيِ الأَرْضِ إِلا الْجِنْسَ الَّذِي نَهَى عَنْهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.
سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما روایت کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”جس شخص کے پاس زمین موجود ہو وہ اس میں کھیتی باڑی کرے، اگر وہ کھیتی باڑی نہیں کر سکتا، تو وہ اپنے کسی بھائی کو بلا معاوضہ دے دے، وہ اس سے اس کا کرایہ نہ لے۔“ (امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں:) نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان کہ وہ اس سے اس کا معاوضہ نہ لے، یہاں پر لفظی طور پر فعل سے منع کیا گیا ہے لیکن اس کے ذریعے مراد استحباب کا اظہار کرنا اور رہنمائی کرنا ہے کیونکہ لوگوں کو اپنے معاملات میں تنگی پیش آتی تھی، تو عطیے کے طور پر زمین دینا ان کے نزدیک کرائے پر دینے سے زیادہ بہتر تھا، ورنہ تمام مسلمانوں کا اس بات پر اتفاق ہے کہ زمین کا کرایہ لینا جائز ہے سوائے اس جنس کے جس سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے منع فرمایا ہے۔ [صحیح ابن حبان/كِتَابُ الإِجَارَةِ/حدیث: 5148]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 2340، 2632، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 1536، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 5148، 5189، 5190، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 3883، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 2451، 2454، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 11814، وأحمد فى (مسنده) برقم: 14462» «رقم طبعة با وزير 5126»

الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح: م (5/ 19). فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط إسناده صحيح على شرط مسلم
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں