🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

Join Our Whatsapp Channel
صحیح ابن حبان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرسالہ سے تلاش کل احادیث (7491)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربي لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربي لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

11. ذكر الخبر المدحض قول من زعم أن يحيى بن أبي كثير لم يسمع هذا الخبر من إبراهيم بن عبد الله بن قارظ-
- یہ خبر جو اس قول کو باطل کرتی ہے جس نے کہا کہ یحییٰ بن ابی کثیر نے یہ روایت ابراہیم بن عبداللہ بن قارظ سے نہیں سنی۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5153
أَخْبَرَنَا ابْنُ سَلْمٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ ، قَالَ: حَدَّثَنَا الأَوْزَاعِيُّ ، قَالَ: حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ أَبِي كَثِيرٍ، قَالَ: حَدَّثَنِي إِبْرَاهِيمُ بْنُ قَارِظٍ ، عَنِ السَّائِبِ بْنِ يَزِيدَ ، عَنْ رَافِعِ بْنِ خَدِيجٍ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " كَسْبُ الْحَجَّامِ خَبِيثٌ، وَمَهْرُ الْبَغِيِّ خَبِيثٌ، وَثَمَنُ الْكَلْبِ خَبِيثٌ" ، قَالَ أَبُو حَاتِمٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ: كَسْبُ الْحَجَّامِ مُحَرَّمٌ إِذَا كَانَ عَلَى شَرْطٍ مَعْلُومٍ، بِأَنْ يَقُولَ: أُخْرِجُ مِنْكَ مِنَ الدَّمِ كَذَا، فَإِذَا عُدِمِ هَذَا الشَّرْطُ الَّذِي هُوَ الْمُضْمَرُ فِي الْخَطَّابِ جَازَ كَسْبُهُ، إِذِ الْمُصْطَفَى صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَجَازَهُ لأَبِي طَيْبَةَ وَجَازَاهُ عَلَى فِعْلِهِ، وَثَمَنُ الْكَلْبِ، وَمَهْرُ الْبَغِيِّ مُحَرَّمَانِ جَمِيعًا.
سیدنا رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے: ”پچھنے لگانے والے کی آمدن خبیث ہے، فاحشہ عورت کی آمدن خبیث ہے اور کتے کی قیمت خبیث ہے۔“ (امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں:) پچھنے لگانے والے کی کمائی کو اس وقت حرام قرار دیا گیا، جبکہ وہ کسی متعین شرط کے ساتھ ہو یعنی وہ یہ کہے: میں تمہارا اتنا خون اتنے عوض میں نکالوں گا۔ جب یہ شرط معلوم ہو جو خطاب میں پوشیدہ ہے تو یہ آمدن جائز ہو گی کیونکہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے خود سیدنا ابوطیبہ رضی اللہ عنہ کے لیے اسے جائز قرار دیا تھا۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے فعل کے ذریعے اسے جائز قرار دیا ہے۔ جہاں تک کتے کی قیمت اور فاحشہ عورت کی آمدن کا تعلق ہے تو یہ دونوں حرام ہیں۔ [صحیح ابن حبان/كِتَابُ الإِجَارَةِ/حدیث: 5153]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه مسلم فى (صحيحه) برقم: 1568، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 5152، 5153، والحاكم فى (مستدركه) برقم: 2291، وأبو داود فى (سننه) برقم: 3421، والترمذي فى (جامعه) برقم: 1275، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 11121، وأحمد فى (مسنده) برقم: 16054» «رقم طبعة با وزير 5131»

الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح - انظر ما قبله. فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط إسناده صحيح على شرط الصحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5154
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ قُتَيْبَةَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ مَوْهَبٍ ، قَالَ: حَدَّثَنِي اللَّيْثُ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنِ ابْنِ مُحَيِّصَةَ ، أَنَّ أَبَاهُ اسْتَأْذَنَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي خَرَاجِ الْحَجَّامِ فَأَبَى أَنْ يَأْذَنَ لَهُ، فَلَمْ يَزَلْ بِهِ حَتَّى قَالَ: " أَطْعِمْهُ رَقِيقَكَ، وَأَعْلِفْهُ نَاضِحَكَ" ، قَالَ أَبُو حَاتِمٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ: تَأَبِّي النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الإِذْنِ فِي خَرَاجِ الْحَجَّامِ فِيهِ شَرْطٌ مُضْمَرٌ، وَهُوَ أَنْ يُشَارِطَ الْحَجَّامَ فِي حَجْمِهِ عَلَى إِخْرَاجِ شَيْءٍ مِنَ الدَّمِ مَعْلُومٍ، فَلِعَدَمِ قُدْرَتِهِ عَلَى إِيجَادِ هَذَا الشَّرْطِ كَرِهَ أَنْ يَأْذَنَ لَهُ فِي كَسْبِهِ، ثُمَّ قَالَ: أَطْعِمْهُ رَقِيقَكَ، وَأَعْلِفُهُ نَاضِحَكَ، وَلَوْ كَانَ كَسْبُ الْحَجَّامِ مَنْهِيًّا عَنْهُ لَمْ يَأْمُرْ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِطْعَامَ الْمَرْءِ رَقِيقَهُ مِنْهُ، إِذِ الرَّقِيقُ مُتَعَبَّدُونَ، وَمِنَ الْمُحَالِ أَنْ يَأْمُرَ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْمُسْلِمَ بِإِطْعَامِ رَقِيقِهِ حَرَامًا.
ابن محیصہ رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں کہ ان کے والد رضی اللہ عنہ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے پچھنے لگانے کے خراج (معاوضے) کے بارے میں اجازت مانگی تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں اجازت دینے سے انکار کر دیا۔ وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اس بارے میں مسلسل بات چیت کرتے رہے یہاں تک کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم (اس کی آمدن کو) اپنے غلام کو کھلا دو یا اپنے اونٹ کو چارہ کھلا دو۔“ (امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے پچھنے لگانے کے معاوضے کے بارے میں اجازت دینے سے اس لیے انکار کیا تھا جس میں یہ شرط پوشیدہ ہے پچھنے لگانے والے شخص نے پچھنے لگانے میں اس بات کی شرط عائد کی تھی کہ وہ متعین مقدار میں خون باہر نکالے گا، تو کیونکہ وہ اس شرط کو پوری کرنے کی قدرت نہیں رکھتا، اس لیے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس بات کو ناپسند کیا کہ وہ اس کی آمدن کے بارے میں اجازت دیں، پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم اسے اپنے غلام کو کھلا دو یا اپنے اونٹ کو چارے کے طور پر کھلا دو“ تو اگر پچھنے لگانے کی آمدن مکمل طور پر منع ہوتی تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم غلام کو اس میں سے کھلانے کی اجازت نہ دیتے، کیونکہ غلام بھی عبادت گزار ہوتے ہیں اور یہ بات ناممکن ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کسی مسلمان کو اپنے غلام کو کوئی حرام چیز کھلانے کا حکم دیں۔) [صحیح ابن حبان/كِتَابُ الإِجَارَةِ/حدیث: 5154]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه مالك فى (الموطأ) برقم: 3574، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 5154، وأحمد فى (مسنده) برقم: 24182، والطحاوي فى (شرح مشكل الآثار) برقم: 4658» «رقم طبعة با وزير 5132»

الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح - «المشكاة» (3778 / التحقيق الثاني)، «الصحيحة» (1400)، «البيوع». فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط حديث صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں