صحیح ابن حبان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
11. ذكر الخبر المدحض قول من زعم أن يحيى بن أبي كثير لم يسمع هذا الخبر من إبراهيم بن عبد الله بن قارظ-
- یہ خبر جو اس قول کو باطل کرتی ہے جس نے کہا کہ یحییٰ بن ابی کثیر نے یہ روایت ابراہیم بن عبداللہ بن قارظ سے نہیں سنی۔
حدیث نمبر: 5153
أَخْبَرَنَا ابْنُ سَلْمٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ ، قَالَ: حَدَّثَنَا الأَوْزَاعِيُّ ، قَالَ: حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ أَبِي كَثِيرٍ، قَالَ: حَدَّثَنِي إِبْرَاهِيمُ بْنُ قَارِظٍ ، عَنِ السَّائِبِ بْنِ يَزِيدَ ، عَنْ رَافِعِ بْنِ خَدِيجٍ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " كَسْبُ الْحَجَّامِ خَبِيثٌ، وَمَهْرُ الْبَغِيِّ خَبِيثٌ، وَثَمَنُ الْكَلْبِ خَبِيثٌ" ، قَالَ أَبُو حَاتِمٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ: كَسْبُ الْحَجَّامِ مُحَرَّمٌ إِذَا كَانَ عَلَى شَرْطٍ مَعْلُومٍ، بِأَنْ يَقُولَ: أُخْرِجُ مِنْكَ مِنَ الدَّمِ كَذَا، فَإِذَا عُدِمِ هَذَا الشَّرْطُ الَّذِي هُوَ الْمُضْمَرُ فِي الْخَطَّابِ جَازَ كَسْبُهُ، إِذِ الْمُصْطَفَى صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَجَازَهُ لأَبِي طَيْبَةَ وَجَازَاهُ عَلَى فِعْلِهِ، وَثَمَنُ الْكَلْبِ، وَمَهْرُ الْبَغِيِّ مُحَرَّمَانِ جَمِيعًا.
سیدنا رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے: ”پچھنے لگانے والے کی آمدن خبیث ہے فاحشہ عورت کی آمدن خبیث ہے اور کتے کی قیمت خبیث ہے۔“
(امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں:) پچھنے لگانے والے کی کمائی کو اس وقت حرام قرار دیا گیا، جبکہ وہ کسی متعین شرط کے ساتھ ہو یعنی وہ یہ کہے: میں تمہارا اتنا خون اتنے عوض میں نکالوں گا۔ جب یہ شرط معلوم ہو جو خطاب میں پوشیدہ ہے تو یہ آمدن جائز ہو گی کیونکہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے خود سیدنا ابوطیبہ رضی اللہ عنہ کے لئے اسے جائز قرار دیا تھا۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے فعل کے ذریعے اسے جائز قرار دیا ہے۔ جہاں تک کتے کی قیمت اور فاحشہ عورت کی آمدن کا تعلق ہے تو یہ دونوں حرام ہیں۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الإجارة/حدیث: 5153]
(امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں:) پچھنے لگانے والے کی کمائی کو اس وقت حرام قرار دیا گیا، جبکہ وہ کسی متعین شرط کے ساتھ ہو یعنی وہ یہ کہے: میں تمہارا اتنا خون اتنے عوض میں نکالوں گا۔ جب یہ شرط معلوم ہو جو خطاب میں پوشیدہ ہے تو یہ آمدن جائز ہو گی کیونکہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے خود سیدنا ابوطیبہ رضی اللہ عنہ کے لئے اسے جائز قرار دیا تھا۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے فعل کے ذریعے اسے جائز قرار دیا ہے۔ جہاں تک کتے کی قیمت اور فاحشہ عورت کی آمدن کا تعلق ہے تو یہ دونوں حرام ہیں۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الإجارة/حدیث: 5153]
تخریج الحدیث: «رقم طبعة با وزير 5131»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح - انظر ما قبله.
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده صحيح على شرط الصحيح
الرواة الحديث:
Sahih Ibn Hibban Hadith 5153 in Urdu
السائب بن يزيد الكندي ← رافع بن خديج الأنصاري