🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

صحیح ابن حبان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرسالہ سے تلاش کل احادیث (7491)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربي لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربي لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

6. ذكر الخبر الدال على أن عموم هذا الخطاب أراد به بعض الجار الذي يكون شريكا دون من لم يكن شريكا-
- یہ خبر جو واضح کرتی ہے کہ اس عمومی خطاب سے مراد صرف وہ ہمسایہ ہے جو شریک ہو، نہ کہ جو شریک نہ ہو۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5183
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُنْذِرِ ، حَدَّثَنَا يُوسُفُ بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا حَجَّاجُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ ، أَخْبَرَنِي إِبْرَاهِيمُ بْنُ مَيْسَرَةَ ، أَنَّ عَمْرَو بْنَ الشَّرِيدِ أَخْبَرَهُ، أَنَّهُ قَالَ: وَقَفْتُ عَلَى سَعْدِ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ، فَجَاءَ الْمِسْوَرُ بْنُ مَخْرَمَةَ فَوَضَعَ يَدَهُ عَلَى أَحَدِ مَنْكِبَيَّ، إِذْ جَاءَ أَبُو رَافِعٍ مَوْلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: يَا سَعْدُ، ابْتَعْ مِنِّي بَيْتِي فِي دَارِكَ، فَقَالَ سَعْدُ: لا وَاللَّهِ لا أَبْتَاعُهُمَا، فَقَالَ الْمِسْوَرُ: وَاللَّهِ لَتَبْتَاعَنَّهُمَا، فَقَالَ سَعْدٌ: وَاللَّهِ لا أَزِيدُكَ عَلَى أَرْبَعَةِ آلافٍ مُنَجَّمَةٍ أَوْ مُقَطَّعَةٍ، فَقَالَ أَبُو رَافِعٍ : وَاللَّهِ لَقَدْ أُعْطِيتُ بِهَا خَمْسَ مِئَةِ دِينَارٍ، وَلَوْلا أَنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: " الْمَرْءُ أَحَقُّ بِسَقَبِهِ" ، مَا أَعْطَيْتُكَهُمَا بِأَرْبَعَةِ آلافِ دِرْهَمٍ وَأَنَا أُعْطَى بِهِمَا خَمْسَ مِائَةِ دِينَارٍ.
عمرو بن شرید بیان کرتے ہیں کہ میں سیدنا سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ کے پاس کھڑا ہوا تھا، اسی دوران سیدنا مسور بن مخرمہ رضی اللہ عنہ تشریف لے آئے اور انہوں نے اپنا ہاتھ میرے کندھے پر رکھا، اسی دوران نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے غلام سیدنا ابو رافع رضی اللہ عنہ تشریف لے آئے اور انہوں نے فرمایا: اے سیدنا سعد رضی اللہ عنہ! آپ مجھ سے اپنے محلے میں موجود میرے گھر خرید لیجیے، سیدنا سعد رضی اللہ عنہ نے کہا: جی نہیں، اللہ کی قسم! میں ان دونوں گھروں کو نہیں خریدوں گا، سیدنا مسور رضی اللہ عنہ نے کہا: اللہ کی قسم! آپ ان دونوں کو ضرور خریدیں گے، سیدنا سعد رضی اللہ عنہ نے کہا: اللہ کی قسم! میں چار ہزار (درہم) سے زیادہ ادائیگی نہیں کروں گا اور وہ بھی قسطوں میں ہوگی، تو سیدنا ابو رافع رضی اللہ عنہ نے کہا: اللہ کی قسم! مجھے اس کے پانچ سو دینار مل رہے ہیں، اگر میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے نہ سنا ہوتا: ” «الْجَارُ أَحَقُّ بِسَقَبِهِ» ”آدمی اپنے پڑوس کا زیادہ حق دار ہوتا ہے“”تو میں چار ہزار درہم کے عوض میں یہ دونوں گھر آپ کو نہ دیتا جبکہ مجھے ان کے پانچ سو دینار دیے جا رہے ہیں۔ [صحیح ابن حبان/كِتَابُ الشُّفْعَةِ/حدیث: 5183]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 2258، 6977، 6978، وابن الجارود فى "المنتقى"، 702، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 5180، 5181، 5183، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 4716، وأبو داود فى (سننه) برقم: 3516، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 2495، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 11693، والدارقطني فى (سننه) برقم: 4526، وأحمد فى (مسنده) برقم: 19768، والحميدي فى (مسنده) برقم: 562» «رقم طبعة با وزير 5160»

الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح: خ، وهو مكرر (5158). تنبيه!! رقم (5158) = (5181) من «طبعة المؤسسة». - مدخل بيانات الشاملة -. فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط إسناده صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں