صحیح ابن حبان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
7. ذكر الخبر المصرح بأن الجار سواء كان متلاصقا أو مجاورا لا يكون له الشفعة حتى يكون شريكا لبائع الدار-
- یہ خبر جو صراحت کرتی ہے کہ نہ ملحقہ اور نہ مجاور ہمسایہ کو شفعہ کا حق حاصل ہے، جب تک وہ فروخت کنندہ کے ساتھ شریک نہ ہو۔
حدیث نمبر: 5184
أَخْبَرَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْقَطَّانُ بِالرَّقَّةَ، حَدَّثَنَا نُوحُ بْنُ حَبِيبٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ : " إِنَّمَا جَعَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الشُّفْعَةَ فِي كُلِّ مَالٍ لَمْ يُقْسَمْ، فَإِذَا وَقَعَتِ الْحُدُودُ وَصُرِفَتِ الطُّرُقُ فَلا شُفْعَةَ" .
سیدنا جابر بن عبدالله رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے شفعہ کا حق ہر اس زمین میں دیا ہے جو تقسیم نہ ہوئی ہو لیکن جب حدود واقع ہو جائیں اور راستے مختلف ہو جائیں تو پھر شفعہ نہیں رہے گا۔ [صحیح ابن حبان/كِتَابُ الشُّفْعَةِ/حدیث: 5184]
تخریج الحدیث: «رقم طبعة با وزير 5161»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح - «الإرواء» (1532)، «البيوع»: خ.
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده صحيح