🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

صحیح ابن حبان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرسالہ سے تلاش کل احادیث (7491)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربي لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربي لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

1. باب
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5188
أَخْبَرَنَا بَكْرُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الْوَهَّابِ أَبُو عَمَرُو الْقَزَّازُ بِالْبَصْرَةِ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ أَبِي الشَّوَارِبِ ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَاحِدِ بْنُ زِيَادٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ الشَّيْبَانِيُّ ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ السَّائِبِ ، قَالَ: سَأَلْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ مَعْقِلٍ عَنِ الْمُزَارَعَةِ، قَالَ: أَخْبَرَنِي ثَابِتُ بْنُ الضَّحَّاكِ " أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَى عَنِ الْمُزَارَعَةِ" .
عبداللہ بن سائب بیان کرتے ہیں: میں نے عبداللہ بن معقل سے موزرعت کے بارے میں دریافت کیا، تو انہوں نے بتایا سیدنا ثابت بن ضحاک نے مجھے یہ بات بتائی ہے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مزارعت سے منع فرمایا ہے۔ [صحیح ابن حبان/كِتَابُ المُزَارَعَةِ/حدیث: 5188]
تخریج الحدیث: «رقم طبعة با وزير 5165»

الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح: م (5/ 24).
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده صحيح على شرط مسلم
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5189
أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ سَلْمٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ ، قَالَ: حَدَّثَنَا الأَوْزَاعِيُّ ، قَالَ: حَدَّثَنِي عَطَاءٌ ، قَالَ: سَمِعْتُ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ ، يَقُولُ: كَانَتْ لِرِجَالٍ مِنَّا فُضُولُ أَرَضِينَ يُؤَاجِرُونَهَا عَلَى الثُّلُثِ وَالرُّبُعِ وَالنِّصْفِ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَنْ كَانَتْ لَهُ فُضُولُ أَرَضِينَ فَلْيَزْرَعْهَا، أَوْ لِيُزْرِعْهَا أَخَاهُ، فَإِنْ أَبَى فَلْيُمْسِكْ أَرْضَهُ" ، قَالَ أَبُو حَاتِمٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ: قَوْلُهُ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَوْ لِيُزْرِعْهَا أَخَاهُ، يُرِيدُ بِهِ فَلْيَمْنَحْهَا أَخَاهُ، وَلَوْ كَانَ ذَلِكَ الزِّرَاعَةَ نَفْسَهَا لَمْ يَكُنْ لِقَوْلِهِ أَوْ لِيَزْرَعْهَا مَعْنَى، لأَنَّهُمْ كَانُوا يُزَارِعُونَ عَلَى الثُّلُثِ وَالرُّبُعِ وَالنِّصْفِ عَلَى مَا فِي الْخَبَرِ.
سیدنا جابر بن عبدالله رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں: پہلے ہم میں سے کچھ لوگوں کے پاس اضافی زمینیں ہوتی تھیں۔ وہ ایک تہائی یا ایک چوتھائی یا نصف پیداوار کے عوض میں ان زمینوں کو کرائے پر دے دیتے تھے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: جس شخص کے پاس اضافی زمین موجود ہو وہ اس میں خود کھیتی باڑی کرے یا اپنے کسی بھائی کو کھیتی باڑی کے لئے دیدے اگر وہ نہیں مانتا تو وہ زمین اپنے پاس رکھے۔ (لیکن کرائے پر نہ دے) (امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں:) نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان: یا وہ اپنے بھائی کو کھیتی باڑی کروا دے اس کے ذریعے آپ کی مراد یہ ہے: وہ اپنے بھائی کو بلا معاوضہ طور پر (عارضی استعمال کے لئے) دیدے اگر اس کے ذریعے مزارعت ہی مراد ہوتی تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان:اسے چاہئے کہ وہ اس میں زراعت کرے اس کا کوئی مطلب نہ ہوتا کیونکہ وہ لوگ پہلے ہی ایک تہائی یا ایک چوتھائی یا نصف پیداوار کے عوض میں مزارعت کیا کرتے تھے جیسا کہ روایت میں یہ بات مذکور ہے۔ [صحیح ابن حبان/كِتَابُ المُزَارَعَةِ/حدیث: 5189]
تخریج الحدیث: «رقم طبعة با وزير 5166»

الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح - «غاية المرام» (361): م.
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده صحيح على شرط مسلم
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں