صحیح ابن حبان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
4. ذكر الزجر عن استكراء المرء الأرض ببعض ما يخرج منها إذا كان ذلك على شرط مجهول-
- یہ تنبیہ کہ زمین کو ان نامعلوم شرائط پر کرایہ پر دینے سے روکا گیا ہے جن کی وضاحت طے نہ ہو۔
حدیث نمبر: 5192
أَخْبَرَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْقَطَّانُ بِالرَّقَّةَ، قَالَ: حَدَّثَنَا حَكِيمُ بْنُ سَيْفٍ الرَّقِّيُّ ، قَالَ: حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عَمْرٍو ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَبِي أُنَيْسَةَ ، عَنْ أَبِي الْوَلِيدِ الْمَكِّيِّ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ :" أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَى عَنِ الْمُحَاقَلَةِ وَالْمُزَابَنَةِ وَالْمُخَابَرَةِ وَأَنْ يُبَاعَ النَّخْلُ حَتَّى يُشْقِحَ" ، وَالإِشْقَاحُ: أَنْ تَحْمَرَّ أَوْ تَصْفَرَّ أَوْ يُطْعَمَ مِنْهُ شَيْءٌ، قَالَ زَيْدٌ: فَقُلْتُ لِعَطَاءٍ: أَسَمِعْتَ هَذَا مِنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ذَكَرَهُ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: نَعَمْ، قَالَ أَبُو حَاتِمٍ: أَبُو الْوَلِيدِ هَذَا اسْمُهُ سَعِيدُ بْنُ مِينَاءَ الْمَكِّيُّ.
سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے محاقلہ، مزابنہ، مخابرہ سے منع کیا ہے اور اس چیز سے منع کیا ہے، کھجور کے پھل کو فروخت کیا جائے جب تک وہ شقح نہیں ہو جاتا اور شقح سے مراد یہ ہے: وہ سرخ یا زرد ہو جائے یا کھانے، کے قابل ہو جائے۔ زید نامی راوی کہتے ہیں: میں نے عطاء سے کہا: آپ نے سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما کے زبانی خود یہ بات سنی ہے انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے حوالے سے یہ حدیث ذکر کی ہو۔ انہوں نے جواب دیا: جی ہاں،
(امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں:) ابوولید نامی راوی کا نام سعید بن میناء مکی ہے۔ [صحیح ابن حبان/كِتَابُ المُزَارَعَةِ/حدیث: 5192]
(امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں:) ابوولید نامی راوی کا نام سعید بن میناء مکی ہے۔ [صحیح ابن حبان/كِتَابُ المُزَارَعَةِ/حدیث: 5192]
تخریج الحدیث: «رقم طبعة با وزير 5169»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح - «أحاديث البيوع»: ق.
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده حسن