صحیح ابن حبان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
28. باب آداب الأكل - ذكر السبب الذي من أجله قال النبي صلى الله عليه وسلم هذا القول-
کھانے کے آداب کا بیان - یہ سبب کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ قول کیوں فرمایا
حدیث نمبر: 5235
أَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ سَعِيدِ بْنِ سِنَانٍ ، قَالَ: أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ ، عَنْ مَالِكٍ ، عَنْ سُهَيْلِ بْنِ أَبِي صَالِحٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ جَاءَهُ ضَيْفٌ كَافِرٌ، فَأَمَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِشَاةٍ فَحُلِبَتْ، فَشَرِبَ حِلابَهَا، ثُمَّ أُخْرَى فَشَرِبَ حِلابَهَا، ثُمَّ أُخْرَى فَشَرِبَ حِلابَهَا، حَتَّى شَرِبَ حِلابَ سَبْعِ شِيَاهٍ، ثُمَّ أَصْبَحَ فَأَسْلَمَ، فَأَمَرَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِشَاةٍ، فَحُلِبَتْ، فَشَرِبَ حِلابَهَا، ثُمَّ أَمَرَ لَهُ بِأُخْرَى، فَلَمْ يَسْتَتِمَّهَا، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِنَّ الْمُؤْمِنَ يَشْرَبُ فِي مِعًى وَاحِدٍ، وَالْكَافِرُ يَشْرَبُ فِي سَبْعَةِ أَمْعَاءٍ" .
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: ایک کافر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاں مہمان کے طور پر آیا، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم کے تحت اس کے لیے بکری کا دودھ دوہ لیا گیا، اس نے اس کا دودھ پی لیا پھر دوسری بکری کا دودھ دوہ لیا گیا تو اس نے وہ بھی پی لیا پھر ایک اور کا دوہ لیا گیا، اس نے وہ بھی پی لیا یہاں تک کہ اس نے سات بکریوں کا دودھ پی لیا۔ اگلے دن وہ مسلمان ہو گیا، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم کے تحت اس کے لیے بکری کا دودھ دوہ لیا گیا تو اس نے اسے پی لیا پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم کے تحت دوسری بکری کا دودھ دوہ لیا گیا تو وہ اسے مکمل طور پر نہیں پی سکا، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”بے شک مومن ایک آنت میں پیتا ہے اور کافر سات آنتوں میں پیتا ہے۔“ [صحیح ابن حبان/كِتَابُ الأَطْعِمَةِ/حدیث: 5235]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 5396، 5397، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 2062، 2063، ومالك فى (الموطأ) برقم: 3417، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 161، 162، 5235، والنسائي فى (الكبریٰ) برقم: 6741، 6866، والترمذي فى (جامعه) برقم: 1819، والدارمي فى (مسنده) برقم: 2086، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 3256، وأحمد فى (مسنده) برقم: 7613، وابن أبى شيبة فى (مصنفه) برقم: 25036» «رقم طبعة با وزير 5212»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح - مضى (162). فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط إسناده صحيح على شرط مسلم