🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

Study in Saudi Arabia with a Fully Funded Scholarship Admission Open Join Our Whatsapp Channel For Detail
صحیح ابن حبان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرسالہ سے تلاش کل احادیث (7491)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربي لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربي لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

72. فصل في الأشربة - ذكر الإباحة للمرء شرب الشرابين إذا مزج بعضهما ببعض-
پانیوں (مشروبات) کے بیان میں ایک فصل - یہ بیان کہ اگر دونوں نبیذ ملائے جائیں تو پینا جائز ہے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5389
أَخْبَرَنَا حَامِدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ شُعَيْبٍ الْبَلْخِيُّ ، قَالَ: حَدَّثَنَا مَنْصُورُ بْنُ أَبِي مُزَاحِمٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ ، عَنْ فُلَيْحِ بْنِ سُلَيْمَانَ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْحَارِثِ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ: دَعَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَجُلاً مِنَ الأَنْصَارِ إِلَى جَانِبِهِ مَاءٌ فِي رَكِيٍّ، فَقَالَ: " أَعِنْدَكُمْ مَاءٌ بَاتَ فِي شَنٍّ، وَإِلا كَرَعْنَا فِي هَذَا"، فَأُتِيَ بِمَاءٍ، وَحُلِبَ لَهُ عَلَيْهِ، فَشَرِبَ ، ثُمَّ قَالَ لِي إِسْمَاعِيلُ: هُنَاكَ فُلَيْحٌ، اذْهَبْ فَاسْمَعْهُ مِنْهُ، فَلَقِيتُ فُلَيْحًا، فَسَأَلْتُهُ عَنْهُ، فَحَدَّثَنِي بِهِ، كَمَا حَدَّثَنِي إِسْمَاعِيلُ، قَالَ أَبُو حَاتِمٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ: إِسْمَاعِيلُ هَذَا: هُوَ إِسْمَاعِيلُ بْنُ عَيَّاشٍ، لَمْ يَذْكُرْهُ فِي كِتَابِنَا هَذَا فِي هَذَا الْمَوْضِعِ احْتِجَاجًا مِنَّا بِهِ، وَاعْتِمَادُنَا فِي هَذَا الْخَبَرِ عَلَى مَنْصُورِ بْنِ أَبِي مُزَاحِمٍ ؛ لأَنَّهُ سَمِعَهُ مِنْ فُلَيْحٍ، وَإِسْمَاعِيلَ قَدْ ذَكَرْنَا السَّبَبَ فِي تَرْكِهِ فِي كِتَابِ الْمَجْرُوحِينَ.
سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک انصاری شخص کو بلایا جس کے پہلو میں پانی کا مشکیزہ تھا، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا: کیا تمہارے پاس ایسا پانی ہے جو رات سے مشکیزے میں رہا ہو؟ ورنہ ہم (اس بہتے ہوئے پانی میں سے) پی لیتے ہیں۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں پانی پیش کیا گیا جس میں دودھ ملایا گیا تھا تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے پی لیا۔ منصور نامی راوی کہتے ہیں: اس کے بعد اسماعیل نامی راوی نے مجھ سے کہا: فلیح نامی راوی یہاں آئے ہوئے ہیں، تم جا کر ان سے یہ حدیث سن لو۔ منصور کہتے ہیں: تو میری ملاقات فلیح سے ہوئی، میں نے ان سے اس حدیث کے بارے میں دریافت کیا تو انہوں نے بھی یہ حدیث اسی طرح سنائی جس طرح اسماعیل نے سنائی تھی۔ (امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں:) اسماعیل نامی راوی اسماعیل بن عیاش ہیں، ہم نے اپنی کتاب میں صرف اس جگہ ان کا ذکر کیا ہے تاکہ اس کے ذریعے استدلال کیا جائے ورنہ اس روایت میں ہمارا اعتماد منصور بن ابومزاحم نامی راوی پر ہے کیونکہ انہوں نے اس حدیث کو فلیح اور اسماعیل دونوں سے سنا ہے اور ہم نے اسماعیل کو متروک قرار دینے کی وجہ کتاب المجروحین میں بیان کر دی ہے۔ [صحیح ابن حبان/كِتَابُ الأَشْرِبَةِ/حدیث: 5389]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 5613، 5621، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 5314، 5389، وأبو داود فى (سننه) برقم: 3724، والدارمي فى (مسنده) برقم: 2169، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 3432، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 14776، وأحمد فى (مسنده) برقم: 14743» «رقم طبعة با وزير 5365»

الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح: خ من طريق أبي عامر العقدي: ثنا فليح ...
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
حديث حسن
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں