🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

صحیح ابن حبان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرسالہ سے تلاش کل احادیث (7491)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربي لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربي لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

67. باب آداب النوم - ذكر الشيء الذي إذا قاله المرء عند استيقاظه من النوم دخل الجنة بقوله ذلك إن أدركته منيته-
سونے کے آداب کا بیان - بیان کیا گیا کہ جو شخص سونے کے بعد یہ کہے اور موت آجائے تو جنت میں داخل ہوگا
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5533
أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى ، قَالَ: حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْحَجَّاجِ السَّامِيُّ ، قَالَ: حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَنِ الْحَجَّاجِ الصَّوَّافِ ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ ، عَنْ جَابِرٍ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " إِذَا أَوَى الرَّجُلُ إِلَى فِرَاشِهِ، أَتَاهُ مَلَكٌ وَشَيْطَانٌ، فَيَقُولُ الْمَلَكُ: اخْتِمْ بِخَيْرٍ، وَيَقُولُ الشَّيْطَانُ: اخْتِمْ بِشَرٍّ، فَإِنْ ذَكَرَ اللَّهَ، ثُمَّ نَامَ، بَاتَتِ الْمَلائِكَةُ تَكْلَؤُهُ، فَإِنِ اسْتَيْقَظَ، قَالَ الْمَلَكُ: افْتَحْ بِخَيْرٍ، وَقَالَ الشَّيْطَانُ: افْتَحْ بِشَرٍّ، فَإِنْ قَالَ: الْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي رَدَّ عَلَيَّ نَفْسِي، وَلَمْ يُمِتْهَا فِي مَنَامِهَا، الْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي يُمْسِكُ السَّمَاوَاتِ وَالأَرْضَ أَنْ تَزُولا، إِلَى آخِرِ الآيَةِ، الْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي يُمْسِكُ السَّمَاءَ أَنْ تَقَعَ عَلَى الأَرْضِ إِلا بِإِذْنِهِ، فَإِنْ وَقَعَ مِنْ سَرِيرِهِ، فَمَاتَ، دَخَلَ الْجَنَّةَ" .
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ”جب کوئی شخص اپنے بستر پر جاتا ہے تو ایک فرشتہ اور ایک شیطان اس کے پاس آتے ہیں، فرشتہ یہ کہتا ہے: بھلائی کے ذریعے (اپنے دن بھر کے کاموں کا) اختتام کرو۔ شیطان کہتا ہے: برائی کے ذریعے (اپنے دن بھر کے کاموں کا) اختتام کرو۔ (نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں:) اگر وہ شخص اللہ کا ذکر کر کے سوتا ہے تو فرشتے رات بھر اس کی حفاظت کرتے رہتے ہیں، جب وہ بیدار ہو جائے تو فرشتہ کہتا ہے: بھلائی کے ذریعے (اپنے دن کے کاموں) کا آغاز کرو، اور شیطان کہتا ہے: برائی کے ذریعے آغاز کرو، اگر وہ شخص یہ پڑھ لے: «الْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي رَدَّ عَلَيَّ نَفْسِي، وَلَمْ يُمِتْهَا فِي مَنَامِهَا، الْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي ﴿إِنَّ اللَّهَ يُمْسِكُ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضَ أَن تَزُولَا﴾ [سورة فاطر: 41] ، الْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي ﴿وَيُمْسِكُ السَّمَاءَ أَن تَقَعَ عَلَى الْأَرْضِ إِلَّا بِإِذْنِهِ﴾ [سورة الحج: 65] » ”ہر طرح کی حمد اللہ کے لیے مخصوص ہے جس نے میری جان مجھے واپس کر دی اور اسے سونے کے دوران ہی موت نہیں دی، ہر طرح کی حمد اللہ کے لیے مخصوص ہے جس نے آسمانوں اور زمین کو اس بات سے روکا ہوا ہے وہ برباد ہو جائیں (یہ آیت کے آخر تک پڑھنا ہے)، ہر طرح کی حمد اس کے لیے مخصوص ہے جس نے آسمان کو اس بات سے روکا ہوا ہے وہ زمین پر گر جائے البتہ اس کی اجازت سے ایسا ہو سکتا ہے۔““ [صحیح ابن حبان/كِتَابُ الزِّينَةِ وَالتَّطْيِيبِ/حدیث: 5533]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه ابن حبان فى (صحيحه) برقم: 5533، والحاكم فى (مستدركه) برقم: 2018، والنسائي فى (الكبریٰ) برقم: 10623، 10624، 10625، وأبو يعلى فى (مسنده) برقم: 1791» «رقم طبعة با وزير 5508»

الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني ضعيف - «التعليق الرغيب» (1/ 240)، «ضعيف الأدب المفرد» (191). فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط Null
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں