صحیح ابن حبان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
66. باب آداب النوم - ذكر ما يحمد المرء ربه جل وعلا على ما أحياه بعد إماتته-
سونے کے آداب کا بیان - بیان کیا گیا کہ انسان اللہ کا شکر ادا کرے کہ اس نے اسے موت کے بعد زندگی دی
حدیث نمبر: 5532
أَخْبَرَنَا أَبُو خَلِيفَةَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُسَدَّدُ بْنُ مُسَرْهَدٍ ، عَنْ يَحْيَى الْقَطَّانِ ، عَنْ سُفْيَانَ ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ عُمَيْرٍ ، عَنْ رِبْعِيٍّ ، عَنْ حُذَيْفَةَ ، قَالَ: كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " إِذَا أَوَى إِلَى فِرَاشِهِ، قَالَ: اللَّهُمَّ بِاسْمِكَ أَحْيَا، وَبِاسْمِكَ أَمُوتُ، وَإِذَا اسْتَيْقَظَ، قَالَ: الْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي أَحْيَانَا بَعْدَمَا أَمَاتَنَا وَإِلَيْهِ النُّشُورُ" .
سیدنا حذیفہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب بستر پر جاتے تھے تو یہ پڑھتے تھے: «بِاسْمِكَ اللّٰهُمَّ أَمُوتُ وَأَحْيَا» ”اے اللہ! میں تیرے نام سے برکت حاصل کرتے ہوئے زندہ ہوتا ہوں (یعنی بیدار ہوتا ہوں) اور تیرے نام سے برکت حاصل کرتے ہوئے مرتا ہوں (یعنی سوتا ہوں)۔“ جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم بیدار ہوتے تھے تو آپ یہ پڑھتے تھے: «الْحَمْدُ لِلّٰهِ الَّذِي أَحْيَانَا بَعْدَ مَا أَمَاتَنَا وَإِلَيْهِ النُّشُورُ» ”ہر طرح کی حمد اللہ کے لیے مخصوص ہے، جس نے ہمیں موت (یعنی نیند) دینے کے بعد زندگی (یعنی بیداری) دی اور اسی کی طرف لوٹ کے جانا ہے۔“ [صحیح ابن حبان/كِتَابُ الزِّينَةِ وَالتَّطْيِيبِ/حدیث: 5532]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 6312، 6314، 6324، 7394، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 5532، 5539، وأبو داود فى (سننه) برقم: 5049، والترمذي فى (جامعه) برقم: 3417، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 3880، وأحمد فى (مسنده) برقم: 23743» «رقم طبعة با وزير 5507»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح - «الصحيحة» (2754): خ. فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط إسناده صحيح على شرط البخاري