صحیح ابن حبان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
69. باب آداب النوم - ذكر البيان بأن هذا الأمر إنما أمر لمن أتى مضجعه ووسد يمينه-
سونے کے آداب کا بیان - بیان کیا گیا کہ یہ حکم صرف اس شخص کے لیے ہے جو بستر پر جا کر دائیں جانب لیٹے
حدیث نمبر: 5535
أَخْبَرَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي مَعْشَرٍ بِحَرَّانَ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا يَحْيَى الْقَطَّانُ ، قَالَ: حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا الْمَقْبُرِيُّ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " إِذَا أَوَى أَحَدُكُمْ إِلَى فِرَاشِهِ، فَلْيَنْزِعْ إِزَارَهُ، وَلْيَنْفُضْ بِدَاخِلَتِهَا فِرَاشَهُ، ثُمَّ لْيَتَوَسَّدْ يَمِينَهُ، وَيَقُولُ: بِاسْمِكَ اللَّهُمَّ أَضَعُ جَنْبِي، وَبِكَ ارْفَعُهُ، اللَّهُمَّ إِنْ أَمْسَكْتَهَا فَارْحَمْهَا، وَإِنْ أَرْسَلْتَهَا فَاحْفَظْهَا بِمَا تَحْفَظُ بِهِ عِبَادَكَ الصَّالِحِينَ" ، قَالَ أَبُو حَاتِمٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ: سَمِعَ هَذَا الْخَبَرَ سَعِيدٌ الْمَقْبُرِيُّ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، وَسَمِعَهُ مِنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، فَالطَّرِيقَانِ جَمِيعًا مَحْفُوظَانِ.
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ”جب کوئی شخص اپنے بستر پر جائے تو اپنے تہبند کا (ایک سرا) باہر نکال کر اس کے اندرونی حصے کے ذریعے اپنے بستر کو جھاڑ لے، پھر وہ دائیں پہلو کے بل تکیے (پر سر رکھے) اور یہ پڑھے: «بِاسْمِكَ رَبِّي وَضَعْتُ جَنْبِي، وَبِكَ أَرْفَعُهُ، إِنْ أَمْسَكْتَ نَفْسِي فَارْحَمْهَا، وَإِنْ أَرْسَلْتَهَا فَاحْفَظْهَا بِمَا تَحْفَظُ بِهِ عِبَادَكَ الصَّالِحِينَ» ”اے اللہ! میں تیرے نام سے برکت حاصل کرتے ہوئے اپنا پہلو (بستر پر) رکھتا ہوں اور تیری مدد سے ہی اسے اٹھاؤں گا: اے اللہ! اگر تو نے اسے روک لیا تو اس پر رحم کرنا اور اگر اسے چھوڑ دیا تو اس کی اس چیز کے ہمراہ حفاظت کرنا جس کے ذریعے تو اپنے نیک بندوں کی حفاظت کرتا ہے۔““ (امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں:) سعید مقبری نے یہ روایت سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے بھی سنی ہے اور انہوں نے یہ روایت اپنے والد کے حوالے سے بھی سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے سنی ہے، اس کے دونوں طرق محفوظ ہیں۔ [صحیح ابن حبان/كِتَابُ الزِّينَةِ وَالتَّطْيِيبِ/حدیث: 5535]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 6320، 7393، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 2714، 2714، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 5534، 5535، وأبو داود فى (سننه) برقم: 5050، والترمذي فى (جامعه) برقم: 3401، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 3874، وأحمد فى (مسنده) برقم: 7477» «رقم طبعة با وزير 5510»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح - المصدر نفسه. فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط إسناده صحيح على شرط الشيخين