🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

صحیح ابن حبان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرسالہ سے تلاش کل احادیث (7491)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربي لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربي لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

70. باب آداب النوم - ذكر البيان بأن هذا الأمر بهذا الدعاء إنما أمر للآخذ مضجعه وهو متوضئ للصلاة-
سونے کے آداب کا بیان - بیان کیا گیا کہ یہ دعا صرف اس کے لیے ہے جو بستر پر جا رہا ہو اور وضو کے ساتھ سونے والا ہو
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5536
أَخْبَرَنَا ابْنُ قُتَيْبَةَ ، قَالَ: أَخْبَرَنَا ابْنُ أَبِي السَّرِيِّ ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُعْتَمِرٌ ، قَالَ: سَمِعْتُ مَنْصُورَ بْنَ الْمُعْتَمِرِ ، يُحَدِّثُ عَنْ سَعْدِ بْنِ عُبَيْدَةَ ، قَالَ: حَدَّثَنِي الْبَرَاءُ بْنُ عَازِبٍ ، قَالَ: قَالَ نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِذَا أَخَذْتَ مَضْجَعَكَ، فَتَوَضَّأْ وُضُوءَكَ لِلصَّلاةِ، ثُمَّ اضْطَجِعْ عَلَى شِقِّكَ الأَيْمَنِ، ثُمَّ قُلِ: اللَّهُمَّ أَسْلَمْتُ وَجْهِي إِلَيْكَ، وَفَوَّضْتُ أَمْرِي إِلَيْكَ، وَأَلْجَأْتُ ظَهْرِي إِلَيْكَ، رَغْبَةً وَرَهْبَةً إِلَيْكَ، لا مَلْجَأَ وَلا مَنْجَا مِنْكَ إِلا إِلَيْكَ، آمَنْتُ بِكِتَابِكَ الَّذِي أَنْزَلْتَ، وَبِنَبِيِّكَ الَّذِي أَرْسَلْتَ، وَاجْعَلْهُ آخِرَ مَا تَقُولُ، فَإِنْ مِتَّ مِتَّ عَلَى الْفِطْرَةِ، فَقُلْتُ: أَسْتَذْكِرُهُنَّ، وَبِرَسُولِكَ الَّذِي أَرْسَلْتَ؟ فَقَالَ: وَبِنَبِيِّكَ الَّذِي أَرْسَلْتَ" .
سیدنا براء بن عازب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: جب تم بستر پر جانے لگو تو نماز کے وضو کی طرح وضو کر لو، پھر اپنے دائیں پہلو کے بل لیٹ جاؤ، پھر یہ پڑھو: «اللَّهُمَّ أَسْلَمْتُ وَجْهِي إِلَيْكَ، وَفَوَّضْتُ أَمْرِي إِلَيْكَ، وَأَلْجَأْتُ ظَهْرِي إِلَيْكَ، رَغْبَةً وَرَهْبَةً إِلَيْكَ، لَا مَلْجَأَ وَلَا مَنْجَا مِنْكَ إِلَّا إِلَيْكَ، آمَنْتُ بِكِتَابِكَ الَّذِي أَنْزَلْتَ، وَبِنَبِيِّكَ الَّذِي أَرْسَلْتَ» اے اللہ! میں نے اپنا چہرہ تیرے سامنے جھکا دیا، میں نے اپنا معاملہ تیرے سپرد کر دیا، میں نے رغبت رکھتے ہوئے اور ڈر رکھتے ہوئے اپنی پشت تیرے ساتھ لگا دی (یعنی تجھ پر آسرا کر لیا)، تیرے مقابلے میں تیرے علاوہ اور کوئی جائے پناہ اور جائے نجات نہیں ہے، میں تیری اس کتاب پر ایمان لایا جسے تو نے نازل کیا ہے اور تیرے اس نبی پر ایمان لایا جسے تو نے مبعوث کیا ہے۔ (نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے:) تم ان کلمات کو اپنی آخری گفتگو بناؤ، اگر تم (اسی رات میں) فوت ہو جاتے ہو تو تم فطرت (یعنی دین اسلام) پر فوت ہو گے۔ سیدنا براء رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: میں نے انہیں یاد کرتے ہوئے لفظ تیرے نبی پر ایمان لایا کی بجائے تیرے رسول پر ایمان لایا پڑھ دیا تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: (یہ پڑھو) تیرے اس نبی پر ایمان لایا جسے تو نے مبعوث کیا ہے۔ [صحیح ابن حبان/كِتَابُ الزِّينَةِ وَالتَّطْيِيبِ/حدیث: 5536]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 247، 6311، 6313، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 2710، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 216، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 5522، 5523، 5527، 5536، 5542، وأبو داود فى (سننه) برقم: 5046، والترمذي فى (جامعه) برقم: 3394، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 3876، وأحمد فى (مسنده) برقم: 18764» «رقم طبعة با وزير 5511»

الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح - «الروض النضير» (154)، «الصحيحة» (2889): ق.
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
حديث صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں