🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

صحیح ابن حبان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرسالہ سے تلاش کل احادیث (7491)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربي لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربي لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

2. ذكر الزجر عن خصال معلومة من أجل علل معدودة-
- باب اس زجر کا کہ چند معروف باتوں سے ان خاص وجوہات کی بنا پر روکا گیا ہے۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5556
أَخْبَرَنَا أَبُو يَعْلَى ، قَالَ: حَدَّثَنَا خَلَفُ بْنُ هِشَامٍ الْبَزَّازُ ، قَالَ: حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ ، عَنْ عَاصِمٍ ، عَنِ الشَّعْبِيِّ ، أَنَّ مُعَاوِيَةَ كَتَبَ إِلَى الْمُغِيرَةِ بْنِ شُعْبَةَ ، أَنِ اكْتُبْ إِلَيَّ بِحَدِيثٍ سَمِعْتَهُ مِنْ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَدَعَا غُلامَهُ وَرَّادًا، فَقَالَ: اكْتُبْ: إِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " يَنْهَى عَنْ وَأْدِ النَّبَاتِ، وَعُقُوقِ الأُمَّهَاتِ، وَعَنْ مَنَعَ وَهَاتِ، وَعَنْ قِيلَ وَقَالَ، وَكَثْرَةِ السُّؤَالِ، وَإِضَاعَةِ الْمَالِ" ، سَمِعَ الشَّعْبِيُّ هَذَا عَنْ وَرَّادٍ، عَنِ الْمُغِيرَةِ، قَالَهُ الشَّيْخُ.
امام شعبی بیان کرتے ہیں: سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ نے سیدنا مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ کو خط لکھا کہ آپ مجھے کوئی ایسی حدیث تحریر کر کے بھیج دیں، جو آپ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی زبانی سنی ہو تو سیدنا مغیرہ رضی اللہ عنہ نے اپنے نوجوان (سیکرٹری) وراد کو بلایا اور بولے: تم یہ لکھو کہ میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو بیٹیوں کو زندہ درگور کرنے ماؤں کی نافرمانی کرنے، دوسروں کا حق ادا نہ کرنے اور ان کا حق مارنے، فضول بحث تمحیص اور بکثرت سوالات (یعنی غیر ضروری سوالات یا ضرورت کے بغیر مانگنے) اور مال کو ضائع کرنے سے منع کرتے ہوئے سنا ہے۔
امام شعبی نے یہ روایت وراد کے حوالے سے سیدنا مغیرہ رضی اللہ عنہ سے نقل کی ہے۔ یہ بات شیخ نے بیان کی ہے۔ [صحیح ابن حبان/كِتَابُ الحَظْرِ وَالإِبَاحَةِ/حدیث: 5556]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 844، 1477، 2408، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 593، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 742، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 2005، 2006، 2007، 5555، 5556، 5719، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 1340، وأبو داود فى (سننه) برقم: 1505، وأحمد فى (مسنده) برقم: 18426» «رقم طبعة با وزير 5530»

الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح - «غاية المرام» -أيضا-: ق.
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
Null
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں