صحیح ابن حبان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
54. فصل في التعذيب - ذكر خبر أوهم عالما من الناس أن عروة لم يسمع هذا الخبر من هشام بن حكيم بن حزام-
عذاب دینے کے بیان میں ایک فصل - خبر بیان کی گئی جو کسی عالم کو یہ سوچنے پر مجبور کرتی تھی کہ عروة نے یہ خبر ہشام بن حکیم بن حزام سے نہیں سنی
حدیث نمبر: 5613
أَخْبَرَنَا أَبُو يَعْلَى ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الأَعْلَى بْنُ حَمَّادٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ ، عَنْ عُرْوَةَ ، أَنَّ حَكِيمَ بْنَ حِزَامٍ ، مَرَّ بِعُمَيْرِ بْنِ سَعْدٍ وَهُوَ يُعَذِّبُ النَّاسَ فِي الْجِزْيَةِ فِي الشَّمْسِ، فَقَالَ: يَا عُمَيْرُ، إِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ:" إِنَّ اللَّهَ يُعَذِّبُ الَّذِينَ يُعَذِّبُونَ النَّاسَ فِي الدُّنْيَا" ، قَالَ: اذْهَبْ، فَخَلِّ سَبِيلَهُمْ، قَالَ أَبُو حَاتِمٍ: سَمِعَ هَذَا الْخَبَرَ عُرْوَةُ، عَنْ هِشَامِ بْنِ حَكِيمِ بْنِ حِزَامٍ، وَهُوَ يُعَاتِبُ عِيَاضَ بْنَ غَنْمٍ عَلَى هَذَا الْفِعْلِ، وَسَمِعَهُ أَيْضًا مِنْ حَكِيمِ بْنِ حِزَامٍ حَيْثُ عَاتَبَ عُمَيْرَ بْنَ سَعْدٍ عَلَى هَذَا الْفِعْلِ سَوَاءٌ، فَالطَّرِيقَانِ جَمِيعًا مَحْفُوظَانِ.
عروہ بیان کرتے ہیں: سیدنا حکیم بن حزام رضی اللہ عنہ عمیر بن سعد کے پاس سے گزرے جو جزیہ کی وجہ سے لوگوں کو دھوپ میں کھڑا کرنے کی سزا دے رہے تھے۔ سیدنا حکیم بن حزام نے فرمایا: اے عمیر میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ بات ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے: ”بے شک اللہ تعالیٰ ان لوگوں کو عذاب دے گا جو دنیا میں دوسرے لوگوں کو عذاب دیتے ہیں۔“ سیدنا حکیم نے فرمایا تم جاؤ اور انہیں چھوڑ دو۔
(امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں:) عروہ نے یہ روایت ہشام بن حکیم سے سنی ہے جو عیاض بن غنم کو ایسا کرنے پر ڈانٹ رہے تھے اور انہوں نے یہ روایت سیدنا حکیم بن حزام رضی اللہ عنہ سے بھی سنی ہے۔ جنہوں نے عمیر بن سعد کو ایسا کرنے پر ڈانٹا تھا، تو یہ دونوں طرق محفوظ ہیں۔ [صحیح ابن حبان/كِتَابُ الحَظْرِ وَالإِبَاحَةِ/حدیث: 5613]
(امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں:) عروہ نے یہ روایت ہشام بن حکیم سے سنی ہے جو عیاض بن غنم کو ایسا کرنے پر ڈانٹ رہے تھے اور انہوں نے یہ روایت سیدنا حکیم بن حزام رضی اللہ عنہ سے بھی سنی ہے۔ جنہوں نے عمیر بن سعد کو ایسا کرنے پر ڈانٹا تھا، تو یہ دونوں طرق محفوظ ہیں۔ [صحیح ابن حبان/كِتَابُ الحَظْرِ وَالإِبَاحَةِ/حدیث: 5613]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه مسلم فى (صحيحه) برقم: 2613، وابن الجارود فى "المنتقى"، 1185، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 5612، 5613، والنسائي فى (الكبریٰ) برقم: 8718، وأبو داود فى (سننه) برقم: 3045، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 18803، وأحمد فى (مسنده) برقم: 15565» «رقم طبعة با وزير 5584»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح: م - كما تقدم. * [فَالطَّرِيقَانِ جَمِيعًا مَحْفُوظَانِ] قال الشيخ: قلت: بل المحفوظ الطريق الأولى - انظر المصدر السابق.
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده صحيح