🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

صحیح ابن حبان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرسالہ سے تلاش کل احادیث (7491)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربي لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربي لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

74. باب قتل الحيوان - ذكر الخبر المتقصي للفظة المختصرة التي تقدم ذكرنا لها بأن قتل الغراب إنما أبيح الأبقع من الغربان دون غيره-
جانور کے قتل (مارنے) کا بیان - ذکر اس خبر کا جو مختصر لفظ کے متعلق ہے، جس کا ہم نے ذکر کیا کہ کوے کا قتل صرف دھاری والے کوے کے لیے جائز ہے نہ کہ دوسرے کووں کے لیے۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5633
أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمِنْهَالِ الضَّرِيرُ ، قَالَ: حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ عُرْوَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " خَمْسُ فَوَاسِقَ يُقْتَلْنَ فِي الْحِلِّ وَالْحَرَمِ: الْعَقْرَبُ، وَالْحِدَأَةُ، وَالْغُرَابُ الأَبْقَعُ، وَالْفَأْرَةُ، وَالْكَلْبُ الْعَقُورُ" ، قَالَ أَبُو حَاتِمٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ: الْمُخْتَصَرُ مِنَ الأَخْبَارِ: هُوَ رِوَايَةُ صَحَابِيٍّ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ رِوَايَةِ الْعُدُولِ عَنْهُ بِلَفْظِهِ يَتَهَيَّأُ اسْتِعْمَالُهَا فِي كُلِّ الأَوْقَاتِ، وَالْمُتَقَصِّي: هُوَ رِوَايَةُ ذَلِكَ الْخَبَرِ بِعَيْنِهِ، عَنْ ذَلِكَ الصَّحَابِيِّ نَفْسِهِ، مِنْ طَرِيقٍ آخَرَ بِزِيَادَةِ بَيَانٍ، يَجِبُ اسْتِعْمَالُ تِلْكَ الزِّيَادَةِ الَّتِي تَفَرَّدَ بِهَا ثِقَةٌ، عَلَى السَّبِيلِ الَّذِي وَصَفْنَا فِي أَوَّلِ الْكِتَابِ.
سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے: پانچ (قسم کے جانور) فاسق ہیں انہیں حل اور حرم (ہر جگہ) قتل کیا جا سکتا ہے۔ بچھو، چیل، کوا، چوہا اور پاگل کتا۔
(امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں:) روایت میں سے مختصر وہ روایت ہوتی ہے جو صحابی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے حوالے سے نقل کر دیتا ہے جو کسی عادل شخص نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے حوالے سے ان الفاظ میں نقل کی ہوتی ہے تو اس پر عمل ہر وقت میں کیا جائے گا اور متقصی وہ روایت ہوتی ہے جو اس نے بعینہ صحابی کے حوالے سے اس کی ذات کے حوالے سے نقل کی ہو جو دوسرے حوالے سے الفاظ کی اضافے کے ہمراہ منقول ہو اس اضافے پر عمل کرنا اس وقت لازم ہوتا ہے جب اسے نقل کرنے میں کوئی ثقہ راوی منفرد ہو۔ یہ اس طریقے کے مطابق ہو گا، جس کا ذکر ہم نے کتاب کے آخر میں کیا ہے۔ [صحیح ابن حبان/كِتَابُ الحَظْرِ وَالإِبَاحَةِ/حدیث: 5633]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 1829، 3314، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 1198، ومالك فى (الموطأ) برقم: 1304، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 2669، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 5632، 5633، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 2829، والترمذي فى (جامعه) برقم: 837، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 3087، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 10146، والدارقطني فى (سننه) برقم: 2475، وأحمد فى (مسنده) برقم: 24686» «رقم طبعة با وزير 5604»

الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح - انظر ما قبله.
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده صحيح على شرطهما
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں