صحیح ابن حبان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
105. باب ما جاء في التباغض والتحاسد والتدابر والتشاجر والتهاجر بين المسلمين - ذكر نفي دخول الجنة عمن مات وهو مهاجر لأخيه المسلم فوق الأيام الثلاث-
مسلمانوں کے درمیان بغض، حسد، منہ موڑنے، جھگڑنے اور قطع تعلقی کے بارے میں وارد احادیث کا بیان - ذکر اس بات کی نفی کہ جو شخص اپنے مسلمان بھائی سے تین دنوں سے زیادہ ہجرت کرتے ہوئے مر جائے وہ جنت میں داخل ہوگا
حدیث نمبر: 5664
أَخْبَرَنَا أَبُو يَعْلَى ، حَدَّثَنَا أَبُو خَيْثَمَةَ ، حَدَّثَنَا أَبُو عَامِرٍ الْعَقَدِيُّ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ يَزِيدَ الرِّشْكِ ، عَنْ مُعَاذَةَ الْعَدَوِيَّةِ ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عَامِرٍ ، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: " لا يَحِلُّ لِمُسْلِمٍ أَنْ يُصَارِمَ مُسْلِمًا فَوْقَ ثَلاثٍ، وَإِنَّهُمَا نَاكِبَانِ عَنِ الْحَقِّ مَا كَانَا عَلَى صِرَامِهِمَا، وَإِنَّ أَوَّلَهُمَا فَيْئًا يَكُونُ سَبْقُهُ بِالْفَيْءِ كَفَّارَةً لَهُ، وَإِنْ سَلَّمَ عَلَيْهِ، فَلَمْ يَقْبَلْ سَلامَهُ، رَدَّتْ عَلَيْهِ الْمَلائِكَةُ، وَرَدَّ عَلَى الآخَرِ الشَّيْطَانُ، وَإِنْ مَاتَا عَلَى صِرَامِهِمَا لَمْ يَدْخُلا الْجَنَّةَ وَلَمْ يَجْتَمِعَا فِي الْجَنَّةِ" ، قَالَ أَبُو حَاتِمٍ:" قَوْلُهُ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" لَمْ يَدْخُلِ الْجَنَّةَ وَلَمْ يَجْتَمِعَا فِي الْجَنَّةِ": يُرِيدُ بِهِ: إِنْ لَمْ يَتَفَضَّلِ الرَّبُّ جَلَّ وَعَلا عَلَيْهِمَا بِالْعَفْوِ عَنْ إِثْمِ صِرَامِهِمَا ذَلِكَ.
سیدنا ہشام بن عامر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے: ”کسی بھی مسلمان کے لئے یہ بات جائز نہیں ہے وہ کسی مسلمان سے تین دن سے زیادہ لاتعلق رہے وہ جب تک اپنی ناراضگی پر ثابت رہتے ہیں۔ اس وقت تک حق سے منہ موڑے رہتے ہیں اور جو شخص ان میں سے (ناراضگی ختم کرنے میں) پہل کرتا ہے تو اس کا پہل کرنا اس کا کفارہ بن جاتا ہے۔ وہ دوسرے شخص کو سلام کرے اور دوسرا شخص اس کے سلام کو قبول نہ کرے تو فرشتے اسے سلام کا جواب دیتے ہیں اور دوسرے شخص کو شیطان سلام کا جواب دیتا ہے اگر وہ دونوں اپنی ناراضگی پر مسلسل رہیں تو وہ دونوں جنت میں داخل نہیں ہوں گے اور جنت میں اکٹھے نہیں ہوں گے۔“
(امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں:) نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان: وہ جنت میں داخل نہیں ہوں گے جنت میں اکٹھے نہیں ہوں گے۔ اس کے ذریعے مراد یہ ہے: اگر اللہ تعالیٰ ان کی اس ناراضگی پر اپنے فضل کے تحت معانی نہ فرمائے۔ (تو وہ جنت میں داخل نہیں ہوں گے) [صحیح ابن حبان/كِتَابُ الحَظْرِ وَالإِبَاحَةِ/حدیث: 5664]
(امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں:) نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان: وہ جنت میں داخل نہیں ہوں گے جنت میں اکٹھے نہیں ہوں گے۔ اس کے ذریعے مراد یہ ہے: اگر اللہ تعالیٰ ان کی اس ناراضگی پر اپنے فضل کے تحت معانی نہ فرمائے۔ (تو وہ جنت میں داخل نہیں ہوں گے) [صحیح ابن حبان/كِتَابُ الحَظْرِ وَالإِبَاحَةِ/حدیث: 5664]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه ابن حبان فى (صحيحه) برقم: 5664، وأحمد فى (مسنده) برقم: 16515، 16516، والطيالسي فى (مسنده) برقم: 1319، وأبو يعلى فى (مسنده) برقم: 1557، والطبراني فى(الكبير) برقم: 454، 455» «رقم طبعة با وزير 5635»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح - «الإرواء» (7/ 95)، «الصحيحة» (1246).
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده صحيح