صحیح ابن حبان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
154. باب ما يكره من الكلام وما لا يكره - ذكر خبر ثان يصرح بأن الدهر ينسب إلى الله جل وعلا على حسب الخلق دون أن يكون ذلك من صفاته جل ربنا وتعالى عنه-
جن باتوں کا کہنا مکروہ ہے اور جن کا مکروہ نہیں، کا بیان - ذکر دوسری خبر جو واضح کرتی ہے کہ زمانہ اللہ جل وعلا کی طرف مخلوق کے اعتبار سے منسوب کیا جاتا ہے نہ کہ یہ اس کی صفات میں سے ہے، ہمارا رب اس سے بلند و بالا ہے
حدیث نمبر: 5715
أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الأَزْدِيُّ ، قَالَ: حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، قَالَ: أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ ، قَالَ: " كَانَ أَهْلُ الْجَاهِلِيَّةِ يَقُولُونَ: إِنَّمَا يُهْلِكُنَا اللَّيْلُ وَالنَّهَارُ، هُوَ الَّذِي يُهْلِكُنَا، وَيُمِيتُنَا، وَيُحْيِينَا، قَالَ اللَّهُ: إِنْ هِيَ إِلا حَيَاتُنَا الدُّنْيَا سورة الأنعام آية 29 الآيَةَ" . قَالَ قَالَ الزُّهْرِيُّ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: يَقُولُ اللَّهُ جَلَّ وَعَلا: " يُؤْذِينِي ابْنُ آدَمَ، يَسُبُّ الدَّهْرَ، وَأَنَا الدَّهْرُ، بِيَدِي الأَمْرُ، أُقَلِّبُ لَيْلَهُ وَنَهَارَهُ، فَإِذَا شِئْتُ قَبَضْتُهُمَا" .
سفیان بن عیینہ بیان کرتے ہیں: زمانہ جاہلیت کے لوگ یہ کہا: کرتے تھے ہمیں رات اور دن نے برباد کر دیا انہوں نے ہی ہمیں برباد کیا ہے انہوں نے ہی ہمیں موت دی ہے انہوں نے ہی ہمیں زندہ کیا ہے تو اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ”یہ نہیں ہے مگر ہماری دنیاوی زندگی۔“
زہری نے سعید بن مسیّب کے حوالے سے سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کے حوالے سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کیا ہے: ”اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: ابن آدم مجھے اذیت پہنچاتا ہے جب وہ زمانے کو برا کہتا ہے کیونکہ میں زمانہ ہوں معاملہ میرے دست قدرت میں ہے میں رات اور دن کو تبدیل کرتا ہوں جب میں چاہوں گا انہیں روک لوں گا۔“ [صحیح ابن حبان/كِتَابُ الحَظْرِ وَالإِبَاحَةِ/حدیث: 5715]
زہری نے سعید بن مسیّب کے حوالے سے سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کے حوالے سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کیا ہے: ”اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: ابن آدم مجھے اذیت پہنچاتا ہے جب وہ زمانے کو برا کہتا ہے کیونکہ میں زمانہ ہوں معاملہ میرے دست قدرت میں ہے میں رات اور دن کو تبدیل کرتا ہوں جب میں چاہوں گا انہیں روک لوں گا۔“ [صحیح ابن حبان/كِتَابُ الحَظْرِ وَالإِبَاحَةِ/حدیث: 5715]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 4826، 6181، 6182، 6183، 7491، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 2246، ومالك فى (الموطأ) برقم: 3608، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 2479، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 5713، 5714، 5715، 5832، 5833، 5834، والحاكم فى (مستدركه) برقم: 1531، وأبو داود فى (سننه) برقم: 4974، 5274، والدارمي فى (مسنده) برقم: 2742، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 6586، وأحمد فى (مسنده) برقم: 7365» «رقم طبعة با وزير 5685»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح - المصدر نفسه، «مختصر الأدب المفرد» (579): م دون الآية.
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده صحيح على شرط الشيخين