صحیح ابن حبان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
197. باب الغيبة - ذكر الإخبار عما يجب على المرء من صيانة أخيه المسلم بتحفظ لسانه عن الوقيعة فيه-
غیبت کا بیان - ذکر خبر کہ انسان پر لازم ہے کہ وہ اپنی زبان کو اپنے مسلمان بھائی کی عیب جوئی سے روک کر اس کی حفاظت کرے
حدیث نمبر: 5759
أَخْبَرَنَا الْفَضْلُ بْنُ الْحُبَابِ الْجُمَحِيُّ ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ جَعْفَرٍ ، عَنِ الْعَلاءِ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " أَتَدْرُونَ مَا الْغِيبَةُ"؟ قَالُوا: اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ، قَالَ:" ذِكْرُكَ أَخَاكَ بِمَا يَكْرَهُ"، قَالَ: أَرَأَيْتَ إِنْ كَانَ فِي أَخِي مَا أَقُولُ؟ قَالَ:" فَإِنْ كَانَ فِيهِ مَا تَقُولُ فَقَدِ اغْتَبْتَهُ، وَإِنْ لَمْ يَكُنْ فِيهِ فَقَدْ بَهَتَّهُ" .
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ”کیا تم لوگ جانتے ہو غیبت سے مراد کیا ہے لوگوں نے عرض کی: اللہ اور اس کا رسول زیادہ بہتر جانتے ہیں۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: تمہارا اپنے بھائی کا اس چیز کے ہمراہ ذکر کرنا جسے وہ ناپسند کرتا ہو۔ سائل نے عرض کیا: آپ کی کیا رائے ہے؟ اگر میرے بھائی میں وہ چیز واقعی موجود ہو جو میں نے بیان کی ہے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اگر اس میں وہ چیز موجود ہو جو تم نے بیان کی ہے تو یوں تم نے اس کی غیبت کی اور اگر وہ اس میں نہ ہو، تو تم نے اس پر بہتان لگایا۔“ [صحیح ابن حبان/كِتَابُ الحَظْرِ وَالإِبَاحَةِ/حدیث: 5759]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه مسلم فى (صحيحه) برقم: 2589، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 5758، 5759، والنسائي فى (الكبریٰ) برقم: 11454، وأبو داود فى (سننه) برقم: 4874، والترمذي فى (جامعه) برقم: 1934، والدارمي فى (مسنده) برقم: 2756، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 21225، وأحمد فى (مسنده) برقم: 7267» «رقم طبعة با وزير 5729»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح - انظر ما قبله.
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده صحيح على شرط مسلم