صحیح ابن حبان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
288. باب الصور والمصورين - ذكر البيان بأن هذه اللفظة " إلا رقما في ثوب " من كلام رسول الله صلى الله عليه وسلم لا من كلام زيد بن خالد-
تصویروں اور مصوروں کا بیان - ذکر بیان کہ لفظ "سواے اس کے کہ کپڑے پر نقش ہو" رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا کلام ہے نہ کہ زید بن خالد کا
حدیث نمبر: 5851
أَخْبَرَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ إِدْرِيسَ الأَنْصَارِيُّ ، قَالَ: أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ ، عَنْ مَالِكٍ ، عَنْ أَبِي النَّضْرِ مَوْلَى عُمَرَ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُتْبَةَ ، أَنَّهُ دَخَلَ عَلَى أَبِي طَلْحَةَ الأَنْصَارِيِّ يَعُودُهُ، قَالَ: فَوَجَدْنَا عِنْدَهُ سَهْلَ بْنَ حُنَيْفٍ، قَالَ: فَدَعَا أَبُو طَلْحَةَ إِنْسَانًا، فَنَزَعَ نَمَطًا تَحْتَهُ، فَقَالَ لَهُ سَهْلُ بْنُ حُنَيْفٍ : لِمَ تَنْزِعْهُ؟ فَقَالَ: إِنَّ فِيهِ تَصَاوِيرَ، وَقَدْ قَالَ فِيهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا قَدْ عَلِمْتَ، فَقَالَ سَهْلٌ: أَلَمْ يَقُلْ: " إِلا مَا كَانَ رَقْمًا فِي ثَوْبٍ"؟ قَالَ: بَلَى، وَلَكِنَّهُ أَطْيَبُ لِنَفْسِي.
عبیداللہ بن عبداللہ بیان کرتے ہیں: وہ سیدنا ابوطلحہ انصاری رضی اللہ عنہ کی خدمت میں ان کی عیادت کرنے کے لیے راوی کہتے ہیں: تو ہم نے سیدنا سہل بن حنیف رضی اللہ عنہ کو ان کے پاس پایا راوی کہتے ہیں: سیدنا ابوطلحہ رضی اللہ عنہ نے ایک شخص کو بلایا اس نے ان کے نیچے سے بچھونا نکال لیا، تو سیدنا سہل بن حنیف رضی اللہ عنہ نے ان سے دریافت کیا آپ نے اسے کیوں نکالا۔ انہوں نے بتایا اس میں تصویریں بنی ہوئی ہیں اور ان کے بارے میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے جو بات ارشاد فرمائی وہ آپ جانتے ہیں، تو سیدنا سہل رضی اللہ عنہ نے کہا: کیا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ نہیں فرمایا کپڑے پر بنے ہوئے نقش و نگار کا حکم مختلف ہے، تو سیدنا ابوطلحہ رضی اللہ عنہ نے کہا: جی ہاں، لیکن میں اپنے اطمینان کے لیے (اسے بھی نکال رہا ہوں)۔ [صحیح ابن حبان/كِتَابُ الحَظْرِ وَالإِبَاحَةِ/حدیث: 5851]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 2105، 2479، 3224، 3225، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 2106، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 844، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 5468، 5843، 5845، 5847، 5850، 5851، 5855، 5860، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 760، وأبو داود فى (سننه) برقم: 4153، والترمذي فى (جامعه) برقم: 1750، 2804، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 2151، 3649، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 1207، وأحمد فى (مسنده) برقم: 16226» «رقم طبعة با وزير 5821»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح - «غاية المرام» (134).
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده صحيح على شرط الشيخين