صحیح ابن حبان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
311. باب اللعب واللهو - ذكر الزجر عن اشتغال المرء بالحمام وسائر الطيور عبثا-
کھیل کود اور لہو و لعب کا بیان - ذکر منع کہ انسان عبث کبوتروں اور دیگر پرندوں کے ساتھ مشغول ہو
حدیث نمبر: 5874
أَخْبَرَنَا أَبُو يَعْلَى ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ سَلامٍ الْجُمَحِيُّ ، قَالَ: حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرٍو ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَأَى رَجُلا يَتْبَعُ حَمَامَةً، فَقَالَ: " شَيْطَانٌ يَتْبَعُ شَيْطَانَةً" . قَالَ أَبُو حَاتِمٍ: اللاعِبُ بِالْحَمَامِ لا يَتَعَدَّى لَعِبُهُ مِنْ أَنْ يَتَعَقَّبَهُ بِمَا يَكْرَهُ اللَّهُ جَلَّ وَعَلا، وَالْمُرْتَكِبُ لِمَا يَكْرَهُ اللَّهُ عَاصٍ، وَالْعَاصِي يَجُوزُ أَنْ يُقَالَ لَهُ: شَيْطَانٌ، وَإِنْ كَانَ مِنْ أَوْلادِ آدَمَ، قَالَ اللَّهُ تَعَالَى: شَيَاطِينَ الإِنْسِ وَالْجِنِّ فَسَمَّى الْعُصَاةَ مِنْهُمَا شَيَاطِينَ، وَإِطْلاقُهُ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اسْمَ الشَّيْطَانِ عَلَى الْحَمَامَةِ لِلْمُجَاوَرَةِ، وَلأَنَّ الْفِعْلَ مِنَ الْعَاصِي بِلَعِبِهَا تَعَدَّاهُ إِلَيْهَا.
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک شخص کو کبوتر کے پیچھے دوڑتے ہوئے دیکھا تو فرمایا ایک شیطان دوسرے شیطان کے پیچھے جا رہا ہے۔
(امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں:) کبوتر کے ساتھ کھیلنے والے شخص کا فعل آگے بڑھ کر ایسی صورت حال لے آتا ہے جو اللہ تعالیٰ کو ناپسند ہو، تو جو شخص کسی ایسی چیز کا مرتکب ہوتا ہے جو اللہ تعالیٰ کو ناپسند ہو وہ شخص گنہگار ہوتا ہے اور گنہگار شخص کو شیطان کہنا جائز ہے اگرچہ اس کا تعلق اولاد آدم سے ہو اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے۔ ”انسانوں اور جنات سے تعلق رکھنے والے شیاطین۔“ تو اللہ تعالیٰ نے ان دونوں طبقوں میں سے گنہگار کے لیے لفظ شیطان استعمال کیا ہے اسی طرح نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے کتوبر کے لیے لفظ شیطان مجاور ت کے طور پر استعمال کیا ہے کیونکہ یہاں پہ گنہگار شخص کا فعل اسی کبوتر سے متعلق ہے۔ [صحیح ابن حبان/كِتَابُ الحَظْرِ وَالإِبَاحَةِ/حدیث: 5874]
(امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں:) کبوتر کے ساتھ کھیلنے والے شخص کا فعل آگے بڑھ کر ایسی صورت حال لے آتا ہے جو اللہ تعالیٰ کو ناپسند ہو، تو جو شخص کسی ایسی چیز کا مرتکب ہوتا ہے جو اللہ تعالیٰ کو ناپسند ہو وہ شخص گنہگار ہوتا ہے اور گنہگار شخص کو شیطان کہنا جائز ہے اگرچہ اس کا تعلق اولاد آدم سے ہو اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے۔ ”انسانوں اور جنات سے تعلق رکھنے والے شیاطین۔“ تو اللہ تعالیٰ نے ان دونوں طبقوں میں سے گنہگار کے لیے لفظ شیطان استعمال کیا ہے اسی طرح نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے کتوبر کے لیے لفظ شیطان مجاور ت کے طور پر استعمال کیا ہے کیونکہ یہاں پہ گنہگار شخص کا فعل اسی کبوتر سے متعلق ہے۔ [صحیح ابن حبان/كِتَابُ الحَظْرِ وَالإِبَاحَةِ/حدیث: 5874]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه ابن حبان فى (صحيحه) برقم: 5874، وأبو داود فى (سننه) برقم: 4940، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 3765، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 19822، 21002، وأحمد فى (مسنده) برقم: 8662، والبزار فى (مسنده) برقم: 7994، 7995» «رقم طبعة با وزير 5844»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
حسن صحيح - «المشكاة» (4506).
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده حسن