صحیح ابن حبان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
3. ذكر البيان بأن هذا العدد المذكور في خبر نافع لم يرد به النفي عما وراءه-
- ذکر بیان کہ نافع کی خبر میں ذکر کردہ تعداد سے اس سے آگے کی نفی مراد نہیں تھی
حدیث نمبر: 6025
أَخْبَرَنَا ابْنُ قُتَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي السَّرِيِّ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ سَالِمٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، أن رسول اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " مَا حَقُّ امْرِئٍ مُسْلِمٍ تَمُرُّ عَلَيْهِ ثَلاثُ لَيَالٍ إِلا وَوَصِيَّتُهُ عِنْدَهُ" .
سالم اپنے والد کے حوالے سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ”کسی مسلمان شخص کو اس بات کا حق حاصل نہیں ہے کہ اس پر تین دن گزر جائیں (اور اس نے وصیت نہ لکھی ہو) اس کی وصیت اس کے پاس ہونی چاہئے۔“ [صحیح ابن حبان/كِتَابُ الوَصِيَّةِ/حدیث: 6025]
تخریج الحدیث: «رقم طبعة با وزير 5993»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح: ق - انظر ما قبله.
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
حديث صحيح
حدیث نمبر: 6026
أَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ سَعِيدِ بْنِ سِنَانٍ ، قَالَ: أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ ، عَنْ مَالِكٍ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ عَامِرِ بْنِ سَعْدِ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، أَنَّهُ قَالَ: جَاءَنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَعُودُنِي عَامَ حَجَّةِ الْوَدَاعِ مِنْ وَجَعٍ اشْتَدَّ بِي، فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، بَلَغَ بِي مِنَ الْوَجَعِ مَا تَرَيْ، وَأَنَا ذُو مَالٍ، وَلا يَرِثُنِي إِلا ابْنَةٌ لِي، أَفَأَتَصَدَّقُ بِثُلُثَيْ مَالِي؟ قَالَ:" لا"، قُلْتُ: فَبِشَطْرِهِ؟ قَالَ:" لا"، ثُمَّ قَالَ: " الثُّلُثُ، وَالثُّلُثُ كَثِيرٌ أَوْ كَبِيرٌ، إِنَّكَ إِنْ تَذَرْ وَرَثَتَكَ أَغْنِيَاءَ خَيْرٌ مِنْ أَنْ يَكُونُوا عَالَةً يَتَكَفَّفُونَ النَّاسَ، وَإِنَّكَ لَنْ تُنْفِقَ نَفَقَةً تَبْتَغِي بِهَا وَجْهَ اللَّهِ إِلا أُجِرْتَ بِهَا، حَتَّى مَا تَجْعَلُ فِي فِي امْرَأَتِكَ" . فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أُخَلَّفُ بَعْدَ أَصْحَابِي؟ قَالَ:" إِنَّكَ لَنْ تُخَلَّفَ فَتَعْمَلَ عَمَلا صَالِحًا تَبْتَغِي بِهِ وَجْهَ اللَّهِ إِلا ازْدَدْتَ بِهِ دَرَجَةً وَرِفْعَةً، وَلَعَلَّكَ أَنْ تُخَلَّفَ حَتَّى يَنْتَفِعَ بِكَ أَقْوَامٌ، وَيُضَرَّ بِكَ آخَرُونَ، اللَّهُمَّ امْضِ لأَصْحَابِي هِجْرَتَهُمْ، وَلا تَرُدَّهُمْ عَلَى أَعْقَابِهِمْ" ، لَكِنَّ الْبَائِسَ سَعْدَ بْنَ خَوْلَةَ، يَرْثِي لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ مَاتَ بِمَكَّةَ.
سیدنا سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: حجۃ الوداع کے موقع پر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم میری عیادت کرنے کیلئے تشریف لائے کیونکہ میری بیماری شدید ہو چکی تھی میں نے عرض کی: یا رسول اللہ ( صلی اللہ علیہ وسلم )! میری بیماری کا جو عالم ہے وہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم ملاحظہ فرما رہے ہیں میں ایک مالدار شخص ہوں میری وارث صرف میری ایک بیٹی ہے کیا میں اپنا دو تہائی مال صدقہ کر دوں۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: جی نہیں۔ میں نے عرض کی: نصف، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جی نہیں پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ایک تہائی کر دو، ویسے ایک تہائی بھی زیادہ ہے (راوی کو شک ہے شاید یہ الفاظ ہیں) بڑا ہے، اگر تم اپنے ورثاء کو خوشحال چھوڑ کر جاتے ہو، تو یہ اس سے زیادہ بہتر ہے وہ تنگدست ہوں اور لوگوں سے مانگتے پھریں تم اللہ کی رضا کے حصول کیلئے جو بھی خرچ کرو گے اس کا تمہیں اجر ملے گا، یہاں تک کہ تم اپنی بیوی کے منہ میں جو کچھ ڈالو گے (اس کا بھی اجر ملے گا) میں نے عرض کی: یا رسول اللہ ( صلی اللہ علیہ وسلم )! کیا میں اپنے ساتھیوں سے پیچھے رہ جاؤں گا۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم پیچھے نہیں رہو گے تم اللہ کی رضا کے حصول کے لیے جو بھی نیک عمل کرو گے اس کے نتیجے میں تمہارے درجے اور قدر و منزلت میں اضافہ ہو گا، ہو سکتا ہے تمہیں طویل زندگی ملے، یہاں تک کہ بہت سے لوگ تم سے نفع حاصل کریں اور بہت سے لوگوں کو تمہاری وجہ سے نقصان کا سامنا کرنا پڑے۔ اے اللہ! تو میرے ساتھیوں کی ہجرت کو باقی رہنے دے اور انہیں ایڑیوں کے بل واپس نہ لوٹانا، لیکن سعد بن خولہ پر افسوس ہے۔
(راوی کہتے ہیں:) نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان پر افسوس کا اظہار اس لیے کیا کیونکہ ان کا انتقال مکہ میں ہو گیا تھا۔ [صحیح ابن حبان/كِتَابُ الوَصِيَّةِ/حدیث: 6026]
(راوی کہتے ہیں:) نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان پر افسوس کا اظہار اس لیے کیا کیونکہ ان کا انتقال مکہ میں ہو گیا تھا۔ [صحیح ابن حبان/كِتَابُ الوَصِيَّةِ/حدیث: 6026]
تخریج الحدیث: «رقم طبعة با وزير 5994»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح - «صحيح أبي داود» (2550): ق، وقد مضى (4235). تنبيه!! رقم (4235) = (4249) من «طبعة المؤسسة». - مدخل بيانات الشاملة -.
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده صحيح على شرط الشيخين