صحیح ابن حبان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
4. ذكر وصف ما تعطى الجدة من الميراث-
- ذکر وصف کہ دادی کو وراثت سے کیا دیا جاتا ہے
حدیث نمبر: 6031
أَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ سَعِيدِ بْنِ سِنَانٍ ، قَالَ: أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ ، عَنْ مَالِكٍ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ عُثْمَانَ بْنِ إِسْحَاقَ بْنِ خَرَشَةَ ، عَنْ قَبِيصَةَ بْنِ ذُؤَيْبٍ ، أَنَّهُ قَالَ:" جَاءَتِ الْجَدَّةُ إِلَى أَبِي بَكْرٍ الصِّدِّيقِ تَسْأَلُهُ مِيرَاثَهَا، فَقَالَ: مَا لَكِ فِي كِتَابِ اللَّهِ مِنْ شَيْءٍ، وَمَا أَعْلَمُ لَكِ فِي سُنَّةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ شَيْئًا، فَارْجِعِي حَتَّى أَسْأَلَ النَّاسَ، فَسَأَلَ النَّاسَ، فَقَالَ الْمُغِيرَةُ بْنُ شُعْبَةَ : حَضَرْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " أَعْطَاهَا السُّدُسَ" ، فَقَالَ:" هَلْ مَعَكَ غَيْرُكَ؟" فَقَامَ مُحَمَّدُ بْنُ مَسْلَمَةَ الأَنْصَارِيُّ فَقَالَ مِثْلَ مَا قَالَ الْمُغِيرَةُ، فَأَنْفَذَ لَهَا أَبُو بَكْرٍ السُّدُسَ، ثُمَّ جَاءَتِ الْجَدَّةُ الأُخْرَى إِلَى عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ تَسْأَلُهُ مِيرَاثَهَا، فَقَالَ: مَالَكِ فِي كِتَابِ اللَّهِ مِنْ شَيْءٍ، وَمَا كَانَ الْقَضَاءُ الَّذِي قَضَى بِهِ إِلا لِغَيْرِكِ، وَمَا أَنَا بِزَائِدٍ فِي الْفَرَائِضِ شَيْئًا، وَلَكِنْ هُوَ ذَلِكَ السُّدُسُ، فَإِنِ اجْتَمَعْتُمَا فِيهِ فَهُوَ بَيْنَكُمَا، وَأَيَّتُكُمَا خَلَتْ بِهِ فَهُوَ لَهَا.
قبیصہ بن ذویب بیان کرتے ہیں: ایک دادی سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کی خدمت میں حاضر ہوئی اور اس نے اپنی وراثت کا مطالبہ کیا سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے فرمایا: تمہارے بارے میں اللہ کی کتاب میں کوئی چیز نہیں ہے اور اللہ کے رسول کی
سنت میں بھی تمہارے بارے میں مجھے کسی چیز کا علم نہیں ہے تم واپس چلی جاؤ میں لوگوں سے اس بارے میں دریافت کرتا ہوں۔ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے لوگوں سے اس بارے میں دریافت کیا، تو سیدنا مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ نے بتایا میں اس وقت نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس موجود تھا، جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے (یعنی دادی یا نانی کو) چھٹا حصہ دیا تھا۔ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے دریافت کیا تمہارے ساتھ کوئی اور شخص بھی تھا۔ سیدنا محمد بن مسلمہ انصاری رضی اللہ عنہ کھڑے ہوئے اور انہوں نے بھی وہی بات بیان کی جو سیدنا مغیرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کی تھی، تو سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے اس (دادی یا نانی) کے لیے چھٹے حصے کو لازم قرار دیا۔
پھر ایک اور دادی (یا نانی) سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کے پاس (ان کے عہد خلافت میں) آئی اور اپنی وراثت کا مطالبہ کیا، تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: تمہارے لیے اللہ کی کتاب میں کوئی حکم نہیں ہے تمہارے بارے میں صرف ایک فیصلہ ہے میں ذوی الفروض میں اضافہ نہیں کرنا چاہتا یہ چھٹا حصہ ہے اگر تم دونوں (یعنی دادی اور نانی) اس میں اکٹھی ہو، تو یہ تم دونوں کے درمیان تقسیم ہو گا اور اگر تم دونوں میں سے کوئی ایک ہو، تو یہ اسے ملے گا۔
[صحیح ابن حبان/كِتَابُ الفَرَائِضِ/حدیث: 6031]
سنت میں بھی تمہارے بارے میں مجھے کسی چیز کا علم نہیں ہے تم واپس چلی جاؤ میں لوگوں سے اس بارے میں دریافت کرتا ہوں۔ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے لوگوں سے اس بارے میں دریافت کیا، تو سیدنا مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ نے بتایا میں اس وقت نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس موجود تھا، جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے (یعنی دادی یا نانی کو) چھٹا حصہ دیا تھا۔ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے دریافت کیا تمہارے ساتھ کوئی اور شخص بھی تھا۔ سیدنا محمد بن مسلمہ انصاری رضی اللہ عنہ کھڑے ہوئے اور انہوں نے بھی وہی بات بیان کی جو سیدنا مغیرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کی تھی، تو سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے اس (دادی یا نانی) کے لیے چھٹے حصے کو لازم قرار دیا۔
پھر ایک اور دادی (یا نانی) سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کے پاس (ان کے عہد خلافت میں) آئی اور اپنی وراثت کا مطالبہ کیا، تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: تمہارے لیے اللہ کی کتاب میں کوئی حکم نہیں ہے تمہارے بارے میں صرف ایک فیصلہ ہے میں ذوی الفروض میں اضافہ نہیں کرنا چاہتا یہ چھٹا حصہ ہے اگر تم دونوں (یعنی دادی اور نانی) اس میں اکٹھی ہو، تو یہ تم دونوں کے درمیان تقسیم ہو گا اور اگر تم دونوں میں سے کوئی ایک ہو، تو یہ اسے ملے گا۔
[صحیح ابن حبان/كِتَابُ الفَرَائِضِ/حدیث: 6031]
تخریج الحدیث: «رقم طبعة با وزير 5999»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
ضعيف - «ضعيف أبي داود» (497).
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
رجاله ثقات رجال الشيخين غير عثمان بن إسحاق بن خرشة