صحیح ابن حبان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
11. ذكر خبر ثان يصرح بمعنى ما ذكرناه
ایک دوسری روایت کا ذکر جو اس بات کے معنی کو واضح کرتی ہے جو ہم نے بیان کیا ہے
حدیث نمبر: 6050
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْجُنَيْدِ ، قَالَ: حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ ، حَدَّثَنَا يَعْلَى بْنُ عَطَاءٍ ، عَنْ وَكِيعِ بْنِ حُدُسٍ ، عَنْ عَمِّهِ أَبِي رَزِينٍ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " رُؤْيَا الْمُؤْمِنِ جُزْءٌ مِنْ سِتَّةٍ وَأَرْبَعِينَ جُزْءًا مِنَ النُّبُوَّةِ، وَالرُّؤْيَا عَلَى رِجْلِ طَائِرٍ مَا لَمْ يُعَبَّرْ عَلَيْهِ، فَإِذَا عُبِّرَتْ وَقَعَتْ"، قَالَ: وَأَحْسِبُهُ قَالَ:" لا يَقُصُّهَا إِلا عَلَى وَادٍّ أَوْ ذِي رَأْيٍ" . قَالَ أَبُو حَاتِمٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ: الصَّحِيحُ بِالْحَاءِ كَمَا قَالَهُ هُشَيْمٌ، وَشُعْبَةُ وَاهِمٌ فِي قَوْلِهِ: عُدُسٍ فَتَبِعَهُ النَّاسُ.
سیدنا ابورزین رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”مومن کا خواب نبوت کا 46 واں حصہ ہے اور خواب اپنی حالت پر برقرار رہتا ہے، جب تک اس کی تعبیر بیان نہ کی جائے جب تعبیر بیان کر دی جائے (تو وہ اس تعبیر کے مطابق) واقع ہو جاتا ہے۔“
(راوی کہتے ہیں:) میرا خیال ہے روایت میں یہ الفاظ بھی ہیں: آدمی کو وہ خواب صرف کسی ایسے شخص کو بیان کرنا چاہئے جو اس کا پسندیدہ ہو یا سمجھ دار (صاحب علم) ہو۔
(امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں:) صحیح یہ ہے کہ یہ لفظ“”ح“”کے ساتھ ہے، جیسا کہ حسین نے یہ بات بیان کی ہے شعبہ نے لفظ عدس نقل کرنے میں وہم کیا اور لوگوں نے اس بارے میں ان کی پیروی کر لی۔ [صحیح ابن حبان/كِتَابُ الرُّؤْيَا/حدیث: 6050]
(راوی کہتے ہیں:) میرا خیال ہے روایت میں یہ الفاظ بھی ہیں: آدمی کو وہ خواب صرف کسی ایسے شخص کو بیان کرنا چاہئے جو اس کا پسندیدہ ہو یا سمجھ دار (صاحب علم) ہو۔
(امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں:) صحیح یہ ہے کہ یہ لفظ“”ح“”کے ساتھ ہے، جیسا کہ حسین نے یہ بات بیان کی ہے شعبہ نے لفظ عدس نقل کرنے میں وہم کیا اور لوگوں نے اس بارے میں ان کی پیروی کر لی۔ [صحیح ابن حبان/كِتَابُ الرُّؤْيَا/حدیث: 6050]
تخریج الحدیث: «رقم طبعة با وزير 6018»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح لغيره - انظر ما قبله.
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
حديث حسن