صحیح ابن حبان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
15. ذكر إعجاب المصطفى صلى الله عليه وسلم الرؤيا إذا قصت عليه-
- ذکر کہ مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم خواب کی تعریف سے متعجب ہوتے تھے جب اسے ان پر بیان کیا جاتا تھا
حدیث نمبر: 6054
أَخْبَرَنَا أَبُو يَعْلَى ، قَالَ: حَدَّثَنَا شَيْبَانُ بْنُ فَرُّوخٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ الْمُغِيرَةِ ، قَالَ: حَدَّثَنَا ثَابِتٌ ، قَالَ: قَالَ أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تُعْجِبُهُ الرُّؤْيَا، فَرُبَّمَا رَأَى الرَّجُلُ الرُّؤْيَا، فَسَأَلَ عَنْهُ إِذَا لَمْ يَكُنْ يَعْرِفُهُ، فَإِذَا أُثْنِيَ عَلَيْهِ مَعْرُوفًا كَانَ أَعْجَبَ لِرُؤْيَاهُ إِلَيْهِ، فَأَتَتْهُ امْرَأَةٌ، فَقَالَتْ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، رَأَيْتُ كَأَنِّيَ أَتَيْتُ، فَأُخْرِجْتُ مِنَ الْمَدِينَةِ، فَأُدْخِلْتُ الْجَنَّةَ، فَسَمِعْتُ وَجْبَةً انْتَحَتْ لَهَا الْجَنَّةُ، فَنَظَرْتُ فَإِذَا فُلانٌ، وَفُلانٌ، وَفُلانٌ، فَسَمَّتِ اثْنَيْ عَشَرَ رَجُلا كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَعَثَ سَرِيَّةً قَبْلَ ذَلِكَ، فَجِيءَ بِهِمْ عَلَيْهِمْ ثِيَابٌ طُلْسٌ، تَشْخَبُ أَوْدَاجُهُمْ، فَقِيلَ: اذْهَبُوا بِهِمْ إِلَى نَهَرِ الْبَيْذَخِ، قَالَ: فَغُمِسُوا فِيهِ، قَالَ: فَخَرَجُوا وَوُجُوهُهُمْ كَالْقَمَرِ لَيْلَةَ الْبَدْرِ، فَأُتُوا بِصَحْفَةٍ مِنْ ذَهَبٍ فِيهَا بُسْرَةٌ، فَأَكَلُوا مِنْ بُسْرِهِ مَا شَاءُوا، مَا يُقَلِّبُونَهَا مِنْ وَجْهٍ إِلا أَكَلُوا مِنَ الْفَاكِهَةِ مَا أَرَادُوا، وَأَكَلْتُ مَعَهُمْ، فَجَاءَ الْبَشِيرُ مِنْ تِلْكَ السَّرِيَّةِ، فَقَالَ: كَانَ مِنْ أَمْرِنَا كَذَا وَكَذَا، فَأُصِيبَ فُلانٌ، وَفُلانٌ، وَفُلانٌ، حَتَّى عَدَّ اثْنَيْ عَشَرَ رَجُلا، فَدَعَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالْمَرْأَةِ، فَقَالَ:" قُصِّي رُؤْيَاكِ" فَقَصَّتْهَا وَجَعَلَتْ تَقُولُ: جِيءَ بِفُلانٍ، وَفُلانٍ كَمَا قَالَ الرَّجُلُ .
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو خواب پسند تھے بعض اوقات کوئی شخص کبھی خواب دیکھتا، تو اگر اس کی سمجھ نہیں آتی، تو وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اس بارے میں دریافت کرتا تھا اور جب اس کی اس حوالے سے تعریف کی جاتی، تو اسے اپنا وہ خواب پسند آتا تھا۔ ایک مرتبہ ایک خاتون نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئی اس نے عرض کی: یا رسول اللہ ( صلی اللہ علیہ وسلم )! میں نے خواب میں دیکھا کہ میں آئی پھر مجھے مدینے سے نکال کر جنت میں داخل کر دیا گیا میں نے آہٹ سنی میں نے اس بات کا جائزہ لیا، تو وہاں فلاں فلاں اور فلاں صاحب موجود تھے اس نے بارہ آدمیوں کے نام گنوائے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اس سے پہلے ایک مہم روانہ کر چکے تھے (اس خاتون نے بتایا) پھر ان لوگوں کو لایا گیا ان لوگوں نے ریشمی کپڑے پہنے ہوئے تھے اور ان کی رگوں سے خون بہہ رہا تھا، تو یہ بات کہی گئی ان لوگوں کو نہر بیذخ کی طرف لے جاؤ پھر انہیں اس میں ڈبکی دلائی گئی جب وہ لوگ نکلے، تو ان کے چہرے چودھویں رات کے چاند کی مانند تھے پھر سونے کا بنا ہوا ایک طشت لایا گیا جس میں کھجوریں تھیں انہوں نے اس میں سے جتنا چاہا کھایا وہ اس کا رخ جس طرف بھی موڑتے وہاں سے اپنی پسند کے مطابق پھل کھا لیتے ان کے ساتھ میں نے بھی اسے کھایا (راوی بیان کرتے ہیں) اسی دوران اس مہم سے سیدنا بشیر رضی اللہ عنہ تشریف لے آئے اور انہوں نے بتایا: ہماری صورت حال یوں ہے کہ فلاں فلاں اور فلاں صاحب شہید ہو گئے ہیں۔ سیدنا بشیر رضی اللہ عنہ نے ان بارہ آدمیوں کے نام گنوائے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس خاتون کو بلوایا اور فرمایا تم اپنا خواب بیان کرو، اس خاتون نے اپنا خواب بیان کرنا شروع کیا اس نے کہا: فلاں صاحب اور فلاں صاحب آئے، تو یہ وہی نام تھے جو ان صاحب نے بیان کئے تھے (جو شہید ہوئے تھے) [صحیح ابن حبان/كِتَابُ الرُّؤْيَا/حدیث: 6054]
تخریج الحدیث: «رقم طبعة با وزير 6022»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح - «اللتعليق على الموارد» (1803).
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده قوي على شرط مسلم