🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

Join Our Whatsapp Channel
صحیح ابن حبان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرسالہ سے تلاش کل احادیث (7491)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربي لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربي لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

12. ذكر الخبر المصرح بإباحة الرقية للعليل بغير كتاب الله ما لم يكن شركا-
- ذکر خبر جو واضح کرتی ہے کہ بیماری کے لیے کتاب اللہ کے علاوہ رقیت جائز ہے بشرطیکہ اس میں شرک نہ ہو
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 6097
أَخْبَرَنَا أَبُو يَعْلَى ، حَدَّثَنَا أَبُو خَيْثَمَةَ ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ ، عَنِ الأَعْمَشِ ، عَنْ أَبِي سُفْيَانَ ، عَنْ جَابِرٍ ، قَالَ: نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ الرُّقَى، فَقِيلَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّكَ نَهَيْتَ عَنِ الرُّقَى؟ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَنِ اسْتَطَاعَ مِنْكُمْ أَنْ يَنْفَعَ أَخَاهُ فَلْيَفْعَلْ" .
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دم کرنے سے منع کیا، عرض کی گئی: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دم کرنے سے منع کر دیا ہے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”تم میں سے جو شخص اپنے بھائی کو کوئی فائدہ پہنچا سکتا ہو اسے ایسا کر لینا چاہیے۔“ [صحیح ابن حبان/كِتَابُ الرُّقَى وَالتَّمَائِمِ/حدیث: 6097]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه مسلم فى (صحيحه) برقم: 2199، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 532، 6091، 6097، 6102، والحاكم فى (مستدركه) برقم: 8371، والنسائي فى (الكبریٰ) برقم: 7498، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 3515، وأحمد فى (مسنده) برقم: 14451» «رقم طبعة با وزير 6065»

الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح: م - وهو مكرر (6059). تنبيه!! رقم (6059) = (6091) من «طبعة المؤسسة». - مدخل بيانات الشاملة -. فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط إسناده على شرط مسلم
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 6098
أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ ، حَدَّثَنَا مَحْمُودُ بْنُ غَيْلانَ ، حَدَّثَنَا أَبُو أَحْمَدَ الزُّبَيْرِيُّ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ ، عَنْ عَمْرَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ ، أن رسول اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ دَخَلَ عَلَيْهَا وَامْرَأَةٌ تُعَالِجُهَا أَوْ تَرْقِيهَا، فَقَالَ: " عَالِجِيهَا بِكِتَابِ اللَّهِ" . قَالَ أَبُو حَاتِمٍ: قَوْلُهُ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" عَالِجِيهَا بِكِتَابِ اللَّهِ" أَرَادَ عَالِجِيهَا بِمَا يُبِيحُهُ كِتَابُ اللَّهِ، لأَنَّ الْقَوْمَ كَانُوا يَرْقُونَ فِي الْجَاهِلِيَّةِ بِأَشْيَاءَ فِيهَا شِرْكٌ، فَزَجَرَهُمْ بِهَذِهِ اللَّفْظَةِ عَنِ الرُّقَى، إِلا بِمَا يُبِيحُهُ كِتَابُ اللَّهِ دُونَ مَا يَكُونُ شِرْكًا.
سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ ایک مرتبہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ان کے ہاں تشریف لائے تو ایک خاتون سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کا علاج کر رہی تھی (راوی کو شک ہے شاید یہ الفاظ ہیں) ان پر دم کر رہی تھی، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”تم اللہ کی کتاب کے مطابق اس کا علاج کرنا۔“ (امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں:) نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان: ”تم اللہ کی کتاب کے مطابق اس کا علاج کرنا“ اس کے ذریعے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی مراد یہ تھی کہ تم ایسے طریقے سے اس کا علاج کرنا جسے اللہ کی کتاب نے مباح قرار دیا ہو؛ کیونکہ پہلے لوگ زمانہ جاہلیت میں ایسے الفاظ کے ذریعے دم کیا کرتے تھے جن میں شرک پایا جاتا تھا، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان الفاظ میں دم کرنے سے ان لوگوں کو منع کر دیا، البتہ جس چیز کو اللہ کی کتاب نے مباح قرار دیا ہو اور جس میں شرک نہ ہو اس کا حکم مختلف ہے۔ [صحیح ابن حبان/كِتَابُ الرُّقَى وَالتَّمَائِمِ/حدیث: 6098]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه ابن حبان فى (صحيحه) برقم: 6098،» «رقم طبعة با وزير 6066»

الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح - «الصحيحة» (1931). فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط رجاله ثقات رجال الشيخين
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں