صحیح ابن حبان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
12. ذكر الخبر المصرح بإباحة الرقية للعليل بغير كتاب الله ما لم يكن شركا-
- ذکر خبر جو واضح کرتی ہے کہ بیماری کے لیے کتاب اللہ کے علاوہ رقیت جائز ہے بشرطیکہ اس میں شرک نہ ہو
حدیث نمبر: 6098
أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ ، حَدَّثَنَا مَحْمُودُ بْنُ غَيْلانَ ، حَدَّثَنَا أَبُو أَحْمَدَ الزُّبَيْرِيُّ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ ، عَنْ عَمْرَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ ، أن رسول اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ دَخَلَ عَلَيْهَا وَامْرَأَةٌ تُعَالِجُهَا أَوْ تَرْقِيهَا، فَقَالَ: " عَالِجِيهَا بِكِتَابِ اللَّهِ" . قَالَ أَبُو حَاتِمٍ: قَوْلُهُ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" عَالِجِيهَا بِكِتَابِ اللَّهِ" أَرَادَ عَالِجِيهَا بِمَا يُبِيحُهُ كِتَابُ اللَّهِ، لأَنَّ الْقَوْمَ كَانُوا يَرْقُونَ فِي الْجَاهِلِيَّةِ بِأَشْيَاءَ فِيهَا شِرْكٌ، فَزَجَرَهُمْ بِهَذِهِ اللَّفْظَةِ عَنِ الرُّقَى، إِلا بِمَا يُبِيحُهُ كِتَابُ اللَّهِ دُونَ مَا يَكُونُ شِرْكًا.
سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: ایک مرتبہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ان کے ہاں آئے تو ایک خاتون سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کا علاج کر رہی تھی (راوی کو شک ہے شاید یہ الفاظ ہیں) ان پر دم کر رہی تھی، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: تم اللہ کی کتاب کے مطابق اس کا علاج کرنا۔
(امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں:) نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان: ”تم اللہ کی کتاب کے مطابق اس کا علاج کرنا، اس کے ذریعے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی مراد یہ تھی کہ تم ایسے طریقے سے اس کا علاج کرنا جسے اللہ کی کتاب نے مباح قرار دیا ہو کیونکہ پہلے لوگ زمانہ جاہلیت میں ایسے الفاظ کے ذریعے دم کیا کرتے تھے جن میں شرک پایا جاتا تھا، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان الفاظ میں دم کرنے سے ان لوگوں کو منع کر دیا، البتہ جس چیز کو اللہ کی کتاب نے مباح قرار دیا ہو اور جس میں شرک نہ ہو اس کا حکم مختلف ہے۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الرقى والتمائم/حدیث: 6098]
(امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں:) نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان: ”تم اللہ کی کتاب کے مطابق اس کا علاج کرنا، اس کے ذریعے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی مراد یہ تھی کہ تم ایسے طریقے سے اس کا علاج کرنا جسے اللہ کی کتاب نے مباح قرار دیا ہو کیونکہ پہلے لوگ زمانہ جاہلیت میں ایسے الفاظ کے ذریعے دم کیا کرتے تھے جن میں شرک پایا جاتا تھا، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان الفاظ میں دم کرنے سے ان لوگوں کو منع کر دیا، البتہ جس چیز کو اللہ کی کتاب نے مباح قرار دیا ہو اور جس میں شرک نہ ہو اس کا حکم مختلف ہے۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الرقى والتمائم/حدیث: 6098]
تخریج الحدیث: «رقم طبعة با وزير 6066»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح - «الصحيحة» (1931).
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
رجاله ثقات رجال الشيخين
الرواة الحديث:
عمرة بنت عبد الرحمن الأنصارية ← عائشة بنت أبي بكر الصديق