🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

صحیح ابن حبان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرسالہ سے تلاش کل احادیث (7491)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربي لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربي لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

22. باب بدء الخلق - ذكر البيان بأن قوله صلى الله عليه وسلم خلق الله آدم من أديم الأرض كلها أراد به من قبضة واحدة منها-
مخلوقات کے آغاز (پیدائش) کا بیان - ذکر بیان کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے قول کہ اللہ نے آدم کو زمین کے تمام آدیم سے بنایا، سے مراد اس کی ایک مٹھی سے ہے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 6160
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ قُتَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي السَّرِيِّ ، حَدَّثَنَا مُعْتَمِرُ بْنُ سُلَيْمَانَ ، حَدَّثَنَا عَوْفٌ ، سَمِعَ قَسَامَةَ بْنَ زُهَيْرٍ ، أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا مُوسَى الأَشْعَرِيَّ ، يَقُولُ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِِنَّ اللَّهَ تَعَالَى خَلَقَ آدَمَ مِنْ قَبْضَةٍ قَبَضَهَا مِنْ جَمِيعِ الأَرْضِ، فَجَاءَ بَنُو آدَمَ عَلَى قَدْرِ الأَرْضِ، مِنْهُمُ الأَحْمَرُ وَالأَسْوَدُ، وَالأَبْيَضُ وَالأَصْفَرُ، وَبَيْنَ ذَلِكَ، وَالسَّهْلُ وَالْحَزْنُ، وَالْخَبِيثُ وَالطِّيبُ" .
سیدنا ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: بے شک اللہ تعالیٰ نے سیدنا آدم علیہ السلام کو ایسی مٹی سے پیدا کیا ہے جو تمام روئے زمین سے اکٹھی کی گئی تھی اس لیے سیدنا آدم علیہ السلام کی اولاد زمین کی خصوصیات کی حامل ہے ان میں کچھ لوگ سرخ ہوتے ہیں کچھ سفید ہوتے ہیں کچھ سیاہ ہوتے ہیں کچھ زرد ہوتے ہیں کچھ ان کے درمیان ہوتے ہیں کچھ آسان ہوتے ہیں کچھ غمگین ہوتے ہیں کچھ بدباطن ہوتے ہیں کچھ پاکیزہ مزاج ہوتے ہیں۔ [صحیح ابن حبان/كِتَابُ التَّارِيخِ/حدیث: 6160]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه ابن حبان فى (صحيحه) برقم: 6160، 6181، والحاكم فى (مستدركه) برقم: 3055، وأبو داود فى (سننه) برقم: 4693، والترمذي فى (جامعه) برقم: 2955، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 17780، 17781، وأحمد فى (مسنده) برقم: 19891» «رقم طبعة با وزير 6127»

الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح - «الصحيحة» (1630).
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
حديث صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں