صحیح ابن حبان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
30. باب بدء الخلق - ذكر إلقاء الله جل وعلا النور على من شاء من خلقه هدايته-
مخلوقات کے آغاز (پیدائش) کا بیان - ذکر کہ اللہ جل وعلا اپنی مخلوق میں سے جسے چاہتا ہے اس پر نور ڈالتا ہے ہدایت کے لیے
حدیث نمبر: 6169
أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى ، حَدَّثَنَا الْعَبَّاسُ بْنُ الْوَلِيدِ النَّرْسِيُّ ، حَدَّثَنَا ابْنُ الْمُبَارَكِ ، عَنِ الأَوْزَاعِيِّ ، عَنْ رَبِيعَةَ بْنِ يَزِيدَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الدَّيْلَمِيِّ ، قَالَ: دَخَلْتُ عَلَى عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمَرُو ، فَقُلْتُ: إِِنَّهُمْ يَزْعُمُونَ أَنَّكَ تَقُولُ: الشَّقِيُّ مَنْ شَقِيَ فِي بَطْنِ أُمِّهِ؟، فَقَالَ: لا أُحِلُّ لأَحَدٍ يَكْذِبُ عَلَيَّ، سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ:" إِِنَّ اللَّهَ خَلَقَ خَلْقَهُ فِي ظُلْمَةٍ، وَأَلْقَى عَلَيْهِمْ مِنْ نُورِهِ، فَمَنْ أَصَابَهُ مِنْ ذَلِكَ النُّورِ، اهْتَدَى، وَمَنْ أَخْطَأَ، ضَلَّ" ، فَلِذَلِكَ أَقُولُ: جَفَّ الْقَلَمُ عَلَى عِلْمِ اللَّهِ جَلَّ وَعَلا.
عبداللہ بن دیلمی بیان کرتے ہیں: میں سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کی خدمت میں حاضر ہوا میں نے کہا: لوگ یہ کہتے ہیں کہ آپ یہ کہتے ہیں: وہ شخص بدبخت ہوتا ہے جو ماں کے پیٹ میں بدبخت ہو، تو سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: میں کسی شخص کیلئے یہ بات حلال قرار نہیں دیتا کہ وہ میری طرف کوئی جھوٹی بات منسوب کرے میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ بات ارشاد فرماتے ہوئے سنتا ہے۔ ”بے شک اللہ تعالیٰ نے اپنی مخلوق کو تاریکی میں پیدا کیا پھر اس نے ان پر اپنا نور ڈالا، تو ان میں سے جسے نور ملا وہ ہدایت پا گیا اور جس تک وہ نور نہیں پہنچا وہ گمراہ ہو گیا اسی وجہ سے میں یہ کہتا ہوں اللہ تعالیٰ کے علم کے حوالے سے (تقدیر مقرر ہو چکی ہے اور) قلم خشک ہو چکا ہے۔“ [صحیح ابن حبان/كِتَابُ التَّارِيخِ/حدیث: 6169]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه ابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 939، 1334، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 1633، 5357، 6169، 6170، 6420، والحاكم فى (مستدركه) برقم: 84، والترمذي فى (جامعه) برقم: 2642، والدارمي فى (مسنده) برقم: 2136، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 1408، 3377، وسعيد بن منصور فى (سننه) ترقيم الدرالسلفية برقم:، 814، والدارقطني فى (سننه) برقم: 4610، 4613، وأحمد فى (مسنده) برقم: 6754» «رقم طبعة با وزير 6136»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح - «المشكاة» (101)، «الصحيحة» (1076)، «الظلال» (241 - 244).
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده صحيح