🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

Join Whatsapp Channel
صحیح ابن حبان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرسالہ سے تلاش کل احادیث (7491)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربي لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربي لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

31. باب بدء الخلق - ذكر الإخبار عن علم الله جل وعلا من يصيبه من ذلك النور أو يخطئه عند خلقه الخلق في الظلمة-
مخلوقات کے آغاز (پیدائش) کا بیان - ذکر خبر کہ اللہ جل وعلا کا علم کہ کون اس نور سے متاثر ہوتا ہے یا کون اس سے محروم رہتا ہے جب وہ مخلوق کو تاریکی میں بناتا ہے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 6170
أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ الْحُسَيْنِ بْنِ سُلَيْمَانَ بِالْفُسْطَاطِ ، حَدَّثَنَا الْحَارِثُ بْنُ مِسْكِينٍ ، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، حَدَّثَنِي مُعَاوِيَةُ بْنُ صَالِحٍ ، عَنْ رَبِيعَةَ بْنِ يَزِيدَ ، عَنِ ابْنِ الدَّيْلَمِيِّ ، قَالَ: قُلْتُ لِعَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو : بَلَغَنِي أَنَّكَ تَقُولُ: إِِنَّ الْقَلَمَ قَدْ جَفَّ، قَالَ: فَقَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ:" إِِنَّ اللَّهَ جَلَّ وَعَلا خَلَقَ النَّاسَ فِي ظُلْمَةٍ، ثُمَّ أَخَذَ نُورًا مِنْ نُورِهِ، فَأَلْقَاهُ عَلَيْهِمْ، فَأَصَابَ مَنْ شَاءَ، وَأَخْطَأَ مَنْ شَاءَ، وَقَدْ عَلِمَ مَنْ يُخْطِئُهُ مِمَّنْ يُصِيبُهُ، فَمَنْ أَصَابَهُ مِنْ نُورِهِ شَيْءٌ، اهْتَدَى، وَمَنْ أَخْطَأَهُ، فَقَدْ ضَلَّ" ، فَفِي ذَلِكَ مَا أَقُولُ: إِِنَّ الْقَلَمَ قَدْ جَفَّ.
ابن دیلمی بیان کرتے ہیں: میں نے سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما سے کہا: مجھے پتہ چلا ہے کہ آپ یہ کہتے ہیں: قلم خشک ہو چکا ہے، تو سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہما نے بتایا: میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ بات ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے: بے شک اللہ تعالیٰ نے لوگوں کو تاریکی میں پیدا کیا پھر اس نے اپنے نور میں سے نور لیا اور اسے ان لوگوں پر ڈالا، تو جسے اس نے چاہا اس تک وہ نور پہنچ گیا اور جسے اس نے چاہا اس تک نور نہیں پہنچا، حالانکہ وہ یہ بات جانتا تھا کہ یہ نور کس تک نہیں پہنچے گا اور کس تک پہنچے گا، تو جس تک وہ نور پہنچ گیا اس نے ہدایت پا لی اور جس تک نہیں پہنچا وہ گمراہ ہو گیا۔ (سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہما نے فرمایا) اسی وجہ سے میں یہ کہتا ہوں قلم خشک ہو چکا ہے (یعنی تقدیر کا فیصلہ طے ہو چکا ہے)۔ [صحیح ابن حبان/كِتَابُ التَّارِيخِ/حدیث: 6170]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه ابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 939، 1334، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 1633، 5357، 6169، 6170، 6420، والحاكم فى (مستدركه) برقم: 84، والترمذي فى (جامعه) برقم: 2642، والدارمي فى (مسنده) برقم: 2136، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 1408، 3377، وسعيد بن منصور فى (سننه) ترقيم الدرالسلفية برقم:، 814، والدارقطني فى (سننه) برقم: 4610، 4613، وأحمد فى (مسنده) برقم: 6754» «رقم طبعة با وزير 6137»

الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح - وهو مكرر ما قبله.
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده قوي
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں