صحیح ابن حبان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
128. باب بدء الخلق - ذكر الخبر المدحض قول من زعم أن أبا طالب كان مسلما-
مخلوقات کے آغاز (پیدائش) کا بیان - ذکر خبر جو اس دعوے کو رد کرتی ہے کہ ابو طالب مسلمان تھے
حدیث نمبر: 6270
أَخْبَرَنَا أَبُو يَعْلَى ، قَالَ: حَدَّثَنَا الْحَارِثُ بْنُ سُرَيْجٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا مَرْوَانُ بْنُ مُعَاوِيَةَ ، عَنْ يَزِيدَ بْنَ كَيْسَانَ ، عَنْ أَبِي حَازِمٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لأَبِي طَالِبٍ حِينَ حَضَرَهُ الْمَوْتُ: " قُلْ لا إِِلَهَ إِِلا اللَّهُ أَشْفَعْ لَكَ بِهَا يَوْمَ الْقِيَامَةِ"، قَالَ: يَا ابْنَ أَخِي، لَوْلا أَنْ تُعَيِّرَنِيَ قُرَيْشٌ لأَقْرَرْتُ عَيْنَيْكَ بِهَا، فَنَزَلَتْ: إِنَّكَ لا تَهْدِي مَنْ أَحْبَبْتَ سورة القصص آية 56 .
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ جب جناب ابوطالب کی موت کا وقت قریب آیا تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا: ”آپ «لَا إِلٰهَ إِلَّا اللّٰهُ» ”اللہ کے سوا کوئی معبودِ برحق نہیں“ پڑھ لیجیے، میں اس کی وجہ سے قیامت کے دن آپ کے حق میں شفاعت کروں گا۔“ تو جناب ابوطالب نے فرمایا: ”اے میرے بھتیجے! اگر مجھے اس بات کا اندیشہ نہ ہوتا کہ قریش مجھے عار دلائیں گے تو میں اس کلمے کے ذریعے تمہاری آنکھوں کو ٹھنڈا کر دیتا۔“ (راوی کہتے ہیں:) اس بارے میں یہ آیت نازل ہوئی: ﴿إِنَّكَ لَا تَهْدِي مَنْ أَحْبَبْتَ﴾ [سورة القصص: 56] ”بے شک تم اسے ہدایت نہیں دیتے جسے تم پسند کرتے ہو۔“ [صحیح ابن حبان/كِتَابُ التَّارِيخِ/حدیث: 6270]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه مسلم فى (صحيحه) برقم: 25، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 6270، والترمذي فى (جامعه) برقم: 3188، وأحمد فى (مسنده) برقم: 9741» «رقم طبعة با وزير 6237»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح: م (1/ 41). فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط حديث صحيح
حدیث نمبر: 6271
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ قُتَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى ، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنِي حَيْوَةُ بْنُ شُرَيْحٍ ، حَدَّثَنِي ابْنُ الْهَادِ ، أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ خَبَّابٍ حَدَّثَهُمْ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، أَنَّهُ سَمِعَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ، وَذُكِرَ عِنْدَهُ عَمُّهُ أَبُو طَالِبٍ، فَقَالَ: " لَعَلَّهُ أَنْ تُصِيبَهُ شَفَاعَتِي، فَتَجْعَلَهُ فِي ضَحْضَاحٍ مِنَ النَّارِ تَبْلُغُ كَعْبَيْهِ، يَغْلِي مِنْهَا دِمَاغُهُ" .
سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو سنا، آپ کے سامنے آپ کے چچا جناب ابوطالب کا ذکر کیا گیا، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”انہیں میری شفاعت نصیب ہو گی، جس کے نتیجے میں ان کے ٹخنوں تک آگ پہنچے گی، لیکن اس کی وجہ سے ان کا دماغ کھول رہا ہو گا (یعنی ان کے باقی جسم تک آگ نہیں پہنچے گی)۔“ [صحیح ابن حبان/كِتَابُ التَّارِيخِ/حدیث: 6271]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 3885، 3885 م، 6564، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 210، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 6271، وأحمد فى (مسنده) برقم: 11215» «رقم طبعة با وزير 6238»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح - «الصحيحة» (54): م. فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط إسناده صحيح على شرط مسلم