🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

Study in Saudi Arabia with a Fully Funded Scholarship Admission Open Join Our Whatsapp Channel For Detail
صحیح ابن حبان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرسالہ سے تلاش کل احادیث (7491)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربي لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربي لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

140. فصل في هجرته صلى الله عليه وسلم إلى المدينة وكيفية أحواله فيها - ذكر عدد غزوات المصطفى صلى الله عليه وسلم-
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی مدینہ کی طرف ہجرت اور وہاں کے حالات کے بیان میں ایک فصل - ذکر کہ مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم کی غزوات کی تعداد
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 6283
أَخْبَرَنَا أَبُو خَلِيفَةَ ، حَدَّثَنَا أَبُو الْوَلِيدِ ، وَابْنُ كَثِيرٍ ، عَنْ شُعْبَةَ ، حَدَّثَنَا أَبُو إِِسْحَاقَ ، قَالَ: خَرَجَ النَّاسُ يَسْتَسْقُونَ وَفِيهِمْ زَيْدُ بْنُ أَرْقَمَ، مَا بَيْنِي وَبَيْنَهُ إِِلا رَجُلٌ، قَالَ: قُلْتُ: كَمْ غَزَا؟ وَقَالَ ابْنُ كَثِيرٍ: يَا أَبَا عَمْرٍو ، " كَمْ غَزَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟، قَالَ: تِسْعَ عَشْرَةَ"، قُلْتُ: كَمْ غَزَوْتَ مَعَهُ؟ قَالَ: سَبْعَ عَشْرَةَ. قُلْتُ:" مَا أَوَّلُ مَا غَزَا؟ قَالَ: ذُو الْعُشَيْرَةِ أَوِ الْعُسَيْرَةِ"، فَصَلَّى عَبْدُ اللَّهِ بْنُ زَيْدٍ بِالنَّاسِ رَكْعَتَيْنِ .
ابواسحاق بیان کرتے ہیں کہ لوگ نمازِ استسقاء ادا کرنے کے لیے نکلے، ان میں سیدنا زید بن ارقم رضی اللہ عنہ بھی تھے۔ میرے اور ان کے درمیان صرف ایک شخص تھا، میں نے دریافت کیا: آپ نے کتنے غزوات میں شرکت کی ہے؟ یہاں ابن کثیر نامی راوی نے یہ الفاظ نقل کیے ہیں: اے ابوعمرو! نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے کتنے غزوات میں شرکت کی ہے؟ انہوں نے جواب دیا: 19 غزوات میں۔ میں نے دریافت کیا: آپ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ کتنے غزوات میں شرکت کی ہے؟ انہوں نے جواب دیا: سترہ (17) میں۔ میں نے دریافت کیا: سب سے پہلا غزوہ کون سا تھا؟ انہوں نے بتایا: «ذُو الْعُشَيْرَةِ» ”ذوعشیرہ“ (راوی کو شک ہے شاید یہ الفاظ ہیں) یا «عُسَيْرَةُ» ”عسیرہ“۔ پھر سیدنا عبداللہ بن زید رضی اللہ عنہ نے لوگوں کو دو رکعات نماز پڑھائی۔ [صحیح ابن حبان/كِتَابُ التَّارِيخِ/حدیث: 6283]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 3949، 4404، 4471، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 1254، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 6283، والحاكم فى (مستدركه) برقم: 6327، والترمذي فى (جامعه) برقم: 1676، والدارمي فى (مسنده) برقم: 1827، وسعيد بن منصور فى (سننه) برقم: 2868، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 6499، 8800، وأحمد فى (مسنده) برقم: 19590» «رقم طبعة با وزير 6250»

الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح: خ (4404)، م (4/ 60). فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط إسناده صحيح على شرط الشيخين
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں