صحیح ابن حبان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
139. فصل في هجرته صلى الله عليه وسلم إلى المدينة وكيفية أحواله فيها - ذكر مواساة الأنصار بالمهاجرين مما ملكوا من هذه الفانية الزائلة رضي الله عنهم-
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی مدینہ کی طرف ہجرت اور وہاں کے حالات کے بیان میں ایک فصل - ذکر کہ انصار نے مہاجرین کی اس فانی دنیا کی چیزوں سے مدد کی، رضی اللہ عنہم
حدیث نمبر: 6282
أَخْبَرَنَا ابْنُ قُتَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى ، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنَا يُونُسُ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، أَنَّهُ قَالَ: لَمَّا قَدِمَ الْمُهَاجِرُونَ مِنْ مَكَّةَ إِِلَى الْمَدِينَةِ، قَدِمُوا وَلَيْسَ بِأَيْدِيهِمْ شَيْءٌ، وَكَانَ الأَنْصَارُ أَهْلَ الأَرْضِ وَالْعَقَارِ، قَالَ: فَقَاسَمَهُمُ الأَنْصَارِ عَلَى أَنْ يُعْطُوهُمْ أَنْصَافَ ثِمَارِ أَمْوَالِهِمْ كُلَّ عَامٍ، فَيَكْفُوهُمُ الْعَمَلَ، قَالَ: وَكَانَتْ أُمُّ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ أَعْطَتْ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَعْذَاقًا لَهَا،" فَأَعْطَاهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أُمَّ أَيْمَنَ مَوْلاتَهُ أُمَّ أُسَامَةَ بْنِ زَيْدٍ، فَلَمَّا فَرَغَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ قِبَلِ أَهْلِ خَيْبَرَ، وَانْصَرَفَ إِِلَى الْمَدِينَةِ، رَدَّ الْمُهَاجِرُونَ إِِلَى الأَنْصَارِ مَنَائِحَهُمُ الَّتِي كَانُوا مَنَحُوهُمْ مِنْ ثِمَارِهِمْ، قَالَ: فَرَدَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِِلَى أُمِّي أَعْذَاقَهَا، وَأَعْطَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أُمَّ أَيْمَنَ مَكَانَهَا مِنْ حَائِطِهِ" .
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: جب مہاجرین مکہ سے مدینہ منورہ آئے وہ ایسی حالت میں آئے کہ ان کے پاس کوئی بھی چیز نہیں تھی، جب کہ انصار کے پاس زمینیں بھی تھیں اور جائیدادیں بھی تھیں۔ سیدنا انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، تو انصار نے ان کے ساتھ یہ طے کیا کہ وہ ہر سال اپنی زمینوں کی پیداوار کا نصف پھل مہاجرین کو دیں گے اور مہاجرین کی جگہ کام کاج کر لیا کریں گے۔ راوی بیان کرتے ہیں: سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ کی والدہ نے اپنی کھجوروں کے کچھ خوشے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں پیش کئے تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے وہ اپنی کنیز ام ایمن کو عطا کر دیے جو سیدنا اسامہ بن زید رضی اللہ عنہ کی والدہ تھی، جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اہل خیبر کی طرف سے فارغ ہوئے اور واپس مدینہ منورہ تشریف لائے تو مہاجرین نے انصار کے عطیات انہیں واپس کر دیئے جو انہوں نے اپنے پھل وغیرہ انہیں عطیے کے طور پر دیئے تھے۔ سیدنا انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے میری والدہ کو ان کے کھجوروں کے خوشے بھی واپس کر دیئے اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدہ ام ایمن رضی اللہ عنہا کو اس کی جگہ اپنا باغ عطا کیا۔ [صحیح ابن حبان/كِتَابُ التَّارِيخِ/حدیث: 6282]
تخریج الحدیث: «رقم طبعة با وزير 6249»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح: خ (2630)، م (5/ 162).
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده صحيح على شرط مسلم