صحیح ابن حبان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
224. باب من صفته صلى الله عليه وسلم وأخباره - ذكر البيان بأن المصطفى صلى الله عليه وسلم كان لا يستكثر الكثير من الدنيا إذا وهبها لمن لا يؤبه له احتقارا لها-
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی صفات اور حالات کے بیان کا باب - ذکر بیان کہ مصطفٰی صلی اللہ علیہ وسلم دنیا کی کثرت کو اس کے لیے زیادہ نہ سمجھتے جو اس کی پرواہ نہ کرتا کیونکہ وہ اسے حقیر سمجھتے تھے
حدیث نمبر: 6373
أَخْبَرَنَا أَبُو يَعْلَى ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَاحِدِ بْنُ غِيَاثٍ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَنْ ثَابِتٍ ، عَنْ أَنَسٍ ، أَنَّ رَجُلًَا أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَأَعْطَاهُ غَنَمًا بَيْنَ جَبَلَيْنِ، فَأَتَى الرَّجُلُ قَوْمَهُ، فَقَالَ: أَيْ قَوْمِ، أَسْلِمُوا، فَوَاللَّهِ إِِنَّ مُحَمَّدًا صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " يُعْطِي عَطَاءَ رَجُلٍ مَا يَخَافُ الْفَاقَةَ، وَإِِنْ كَانَ الرَّجُلُ لَيَأْتِي رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا يُرِيدُ إِِلا دُنْيَا يُصِيبُهَا، فَمَا يُمْسِي حَتَّى يَكُونَ دِينُهُ أَحَبَّ إِِلَيْهِ مِنَ الدُّنْيَا وَمَا فِيهَا" .
سیدنا انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: ایک شخص نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا تو آپ نے اسے دو پہاڑوں کے درمیان موجود بکریاں عطا کر دیں، وہ شخص اپنی قوم کے پاس آیا اور بولا: اے میری قوم! اسلام قبول کر لو، اللہ کی قسم! سیدنا محمد صلی اللہ علیہ وسلم آدمی کو اتنا کچھ عطا کر دیتے ہیں کہ پھر اسے فاقہ کا خوف نہیں رہتا۔
(سیدنا انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں:) بعض اوقات کوئی شخص (اسلام قبول کرنے کے لیے) نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوتا تھا۔ اس کا مقصد صرف دنیاوی فائدے کا حصول ہوتا تھا، لیکن پھر یوں ہوتا کہ اس کا دین اس کے نزدیک دنیا و مافیہا سے زیادہ محبوب ہو جاتا۔
[صحیح ابن حبان/كِتَابُ التَّارِيخِ/حدیث: 6373]
(سیدنا انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں:) بعض اوقات کوئی شخص (اسلام قبول کرنے کے لیے) نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوتا تھا۔ اس کا مقصد صرف دنیاوی فائدے کا حصول ہوتا تھا، لیکن پھر یوں ہوتا کہ اس کا دین اس کے نزدیک دنیا و مافیہا سے زیادہ محبوب ہو جاتا۔
[صحیح ابن حبان/كِتَابُ التَّارِيخِ/حدیث: 6373]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه مسلم فى (صحيحه) برقم: 2312، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 2371، 2372، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 4502، 6373، 6374، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 13310، 13311، وأحمد فى (مسنده) برقم: 12232» «رقم طبعة با وزير 6339»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح - مضى (4485). تنبيه!! رقم (4485) = (4502) من «طبعة المؤسسة». - مدخل بيانات الشاملة -.
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده قوي