صحیح ابن حبان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
356. باب المعجزات - ذكر الخبر المدحض قول من زعم أن هذا الخبر تفرد به أنس-
معجزاتِ کا بیان - ذکر خبر جو اس دعوے کو رد کرتی ہے کہ یہ خبر صرف انس نے روایت کی
حدیث نمبر: 6508
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ أَبِي عَوْنٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ الْمِقْدَامِ الْعِجْلِيُّ ، قَالَ: حَدَّثَنَا الْمُعْتَمِرُ بْنُ سُلَيْمَانَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي نَضْرَةَ ، عَنْ جَابِرٍ ، قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" يَقُومُ إِِلَى جَنْبِ شَجَرَةٍ أَوْ جِذْعٍ أَوْ خَشَبَةٍ أَوْ شَيْءٍ يَسْتَنِدُ إِِلَيْهِ يَخْطُبُ، ثُمَّ اتَّخَذَ مِنْبَرًا، فَكَانَ يَقُومُ عَلَيْهِ، فَحَنَّتْ تِلْكَ الَّتِي كَانَ يَقُومُ عِنْدَهَا حَنِينًا سَمِعَهُ أَهْلُ الْمَسْجِدِ، فَأَتَاهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَإِِمَّا قَالَ: مَسَحَهَا، وَإِِمَّا قَالَ: فَأَمْسَكْهَا، فَسَكَنَتْ" .
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ایک درخت کے پہلو (راوی کو شک ہے شاید یہ الفاظ ہیں) ایک تنے (راوی کو شک ہے شاید یہ الفاظ ہیں) ایک لکڑی (یا شاید یہ الفاظ ہیں) کسی چیز کے ساتھ ٹیک لگا کر خطبہ دیا کرتے تھے، جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے منبر بنوا لیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس پر کھڑے ہوئے تو وہ چیز رونے لگی جس کے قریب کھڑے ہو کر (آپ صلی اللہ علیہ وسلم خطبہ دیا کرتے تھے)، اس کے رونے کی آواز کو تمام اہل مسجد نے سنا، پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اس کے پاس تشریف لائے (راوی کو شک ہے) شاید یہاں انہوں نے یہ الفاظ استعمال کیے ہیں، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس پر ہاتھ پھیرا (یا پھر شاید یہ الفاظ استعمال کیے ہیں) نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے پکڑ لیا تو اسے سکون آیا۔ [صحیح ابن حبان/كِتَابُ التَّارِيخِ/حدیث: 6508]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 449، 918، 2095، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 6508، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 1395، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 1417، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 5778، 5780، وأحمد فى (مسنده) برقم: 14335» «رقم طبعة با وزير 6474»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح - انظر ما قبله. فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط إسناده صحيح على شرط البخاري