صحیح ابن حبان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
355. باب المعجزات - ذكر البيان بأن الجذع الذي ذكرناه إنما سكن عن حنينه باحتضان المصطفى صلى الله عليه وسلم إياه-
معجزاتِ کا بیان - ذکر بیان کہ ہمارے ذکر کردہ تنے نے مصطفٰی صلی اللہ علیہ وسلم کے گلے لگانے سے ہنہنانا بند کیا
حدیث نمبر: 6507
أَخْبَرَنَا أَبُو يَعْلَى ، قَالَ: حَدَّثَنَا شَيْبَانُ بْنُ فَرُّوخٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُبَارَكُ بْنُ فَضَالَةَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا الْحَسَنُ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَخْطُبُ يَوْمَ الْجُمُعَةِ إِِلَى جَنْبِ خَشَبَةٍ يُسْنِدُ ظَهْرَهُ إِِلَيْهَا، فَلَمَّا كَثُرَ النَّاسُ، قَالَ:" ابْنُوا لِي مِنْبَرًا"، فَبَنَوْا لَهُ مِنْبَرًا عَتَبَتَانِ، فَلَمَّا قَامَ عَلَى الْمِنْبَرِ لِيَخْطُبَ، حَنَّتِ الْخَشَبَةُ إِِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ أَنَسٌ:" وَأَنَا فِي الْمَسْجِدِ، فَسَمِعْتُ الْخَشَبَةَ حَنَّتْ حَنِينَ الْوَلَدِ، فَمَا زَالَتْ تَحِنُّ حَتَّى نَزَلَ إِِلَيْهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَاحْتَضَنَهَا، فَسَكَنَتْ" ، قَالَ: وَكَانَ الْحَسَنُ إِِذَا حَدَّثَ بِهَذَا الْحَدِيثِ بَكَى، ثُمَّ قَالَ:" يَا عِبَادَ اللَّهِ، الْخَشَبَةُ تَحِنُّ إِِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ شَوْقًا إِِلَيْهِ لِمَكَانِهِ مِنَ اللَّهِ، فَأَنْتُمْ أَحَقُّ أَنْ تَشْتَاقُوا إِِلَى لِقَائِهِ".
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جمعہ کے دن ایک لکڑی کے ساتھ ٹیک لگا کر خطبہ دیا کرتے تھے۔ آپ اپنی پشت اس کے ساتھ لگا لیتے تھے جب لوگوں کا ہجوم زیادہ ہو گیا تو آپ نے فرمایا: میرے لئے منبر بنا دو، تو لوگوں نے آپ کے لئے دو سیڑھیوں والا منبر بنا دیا، جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم خطبہ دینے کے لئے منبر پر کھڑے ہوئے تو وہ لکڑی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے فراق میں رونے لگی۔
سیدنا انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: میں اس وقت مسجد میں موجود تھا۔ میں نے اس لکڑی کی آواز سنی، یوں جیسے کوئی بچہ روتا ہے اور وہ اس وقت تک روتی رہی جب تک نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اتر کر اس کے پاس تشریف نہیں لے گئے اور آپ نے اسے اپنے ساتھ نہیں لگا لیا (جب آپ نے اسے اپنے ساتھ لگا لیا) تو وہ پرسکون ہوئی۔
راوی کہتے ہیں: جب حسن بصری یہ روایت بیان کرتے تھے تو وہ رونے لگ پڑتے تھے اور بولتے تھے اے اللہ کے بندو! ایک لکڑی تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی محبت میں روتی ہے۔ اس مرتبے اور مقام کی وجہ سے جو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو اللہ کی بارگاہ میں حاصل ہے تو تم لوگ اس بات کے زیادہ حق دار ہو کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی بارگاہ میں حاضری کے مشتاق رہو۔
[صحیح ابن حبان/كِتَابُ التَّارِيخِ/حدیث: 6507]
سیدنا انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: میں اس وقت مسجد میں موجود تھا۔ میں نے اس لکڑی کی آواز سنی، یوں جیسے کوئی بچہ روتا ہے اور وہ اس وقت تک روتی رہی جب تک نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اتر کر اس کے پاس تشریف نہیں لے گئے اور آپ نے اسے اپنے ساتھ نہیں لگا لیا (جب آپ نے اسے اپنے ساتھ لگا لیا) تو وہ پرسکون ہوئی۔
راوی کہتے ہیں: جب حسن بصری یہ روایت بیان کرتے تھے تو وہ رونے لگ پڑتے تھے اور بولتے تھے اے اللہ کے بندو! ایک لکڑی تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی محبت میں روتی ہے۔ اس مرتبے اور مقام کی وجہ سے جو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو اللہ کی بارگاہ میں حاصل ہے تو تم لوگ اس بات کے زیادہ حق دار ہو کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی بارگاہ میں حاضری کے مشتاق رہو۔
[صحیح ابن حبان/كِتَابُ التَّارِيخِ/حدیث: 6507]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه ابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 1776، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 6507، والترمذي فى (جامعه) برقم: 3627، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 1415، وأحمد فى (مسنده) برقم: 2273» «رقم طبعة با وزير 6473»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح لغيره - «الصحيحة» (2174).
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
حديث صحيح