صحیح ابن حبان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
409. باب كتب النبي صلى الله عليه وسلم - ذكر مقاساة المصطفى صلى الله عليه وسلم ما كان يقاسي من قومه في إظهار الإسلام-
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے خطوط (مکاتیب) کا بیان - ذکر کہ مصطفٰی صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی قوم سے اسلام کے ظہور میں جو مشقتیں برداشت کیں
حدیث نمبر: 6562
أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الأَزْدِيُّ ، حَدَّثَنَا إِِسْحَاقُ بْنُ إِِبْرَاهِيمَ ، أَخْبَرَنَا الْفَضْلُ بْنُ مُوسَى ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ زِيَادِ بْنِ أَبِي الْجَعْدِ ، عَنْ جَامِعِ بْنِ شَدَّادٍ ، عَنْ طَارِقِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الْمُحَارِبِيِّ ، قَالَ: رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي سُوقِ ذِي الْمَجَازِ وَعَلَيْهِ حُلَّةٌ حَمْرَاءُ، وَهُوَ يَقُولُ:" يَا أَيُّهَا النَّاسُ، قُولُوا لا إِِلَهَ إِِلا اللَّهُ تُفْلِحُوا"، وَرَجُلٌ يَتْبَعُهُ يَرْمِيهِ بِالْحِجَارَةِ، وَقَدْ أَدْمَى عُرْقُوبَيْهِ وكعبيهِ، وَهُوَ يَقُولُ: يَا أَيُّهَا النَّاسُ، لا تُطِيعُوهُ، فَإِِنَّهُ كَذَّابٌ، فَقُلْتُ: مَنْ هَذَا؟ قِيلَ: هَذَا غُلامُ بَنِي عَبْدِ الْمُطَّلِبِ، قُلْتُ: فَمَنْ هَذَا الَّذِي يَتْبَعُهُ يَرْمِيهِ بِالْحِجَارَةِ؟ قَالَ: هَذَا عَبْدُ الْعُزَّى أَبُو لَهَبٍ . قَالَ: فَلَمَّا ظَهَرَ الإِِسْلامُ، خَرَجْنَا فِي ذَلِكَ حَتَّى نَزَلْنَا قَرِيبًا مِنَ الْمَدِينَةِ وَمَعَنَا ظَعِينَةٌ لَنَا، فَبَيْنَا نَحْنُ قُعُودٌ، إِِذْ أَتَانَا رَجُلٌ عَلَيْهِ ثَوْبَانِ أَبْيَضَانِ، فَسَلَّمَ، وَقَالَ: مِنْ أَيْنَ أَقْبَلَ الْقَوْمُ؟ قُلْنَا: مِنَ الرَّبَذَةِ، قَالَ: وَمَعَنَا جَمَلٌ، قَالَ: أَتَبِيعُونَ هَذَا الْجَمَلَ؟، قُلْنَا: نَعَمْ، قَالَ: بِكَمْ؟، قُلْنَا: بِكَذَا وَكَذَا صَاعًا مِنْ تَمْرٍ، قَالَ: فَأَخَذَهُ وَلَمْ يَسْتَنْقِصْنَا، قَالَ: قَدْ أَخَذْتُهُ، ثُمَّ تَوَارَى بِحِيطَانِ الْمَدِينَةِ، فَتَلاوَمْنَا فِيمَا بَيْنَنَا، فَقُلْنَا: أَعْطَيْتُمْ جَمَلَكُمْ رَجُلا لا تَعْرِفُونَهُ؟، قَالَ: فَقَالَتِ: الظَّعِينَةُ لا تَلاوَمُوا، فَإِِنِّي رَأَيْتُ وَجْهَ رَجُلٍ لَمْ يَكُنْ لِيَحْقِرَكُمْ، مَا رَأَيْتُ شَيْئًا أَشْبَهَ بِالْقَمَرِ لَيْلَةَ الْبَدْرِ مِنْ وَجْهِهِ، قَالَ: فَلَمَّا كَانَ مِنَ الْعَشِيِّ، أَتَانَا رَجُلٌ، فَسَلَّمَ عَلَيْنَا، وَقَالَ: أَنَا رَسُولُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ:" إِِنَّ لَكُمْ أَنْ تَأْكُلُوا حَتَّى تَشْبَعُوا، وَتَكْتَالُوا حَتَّى تَسْتَوْفُوا" ، قَالَ: فَأَكَلْنَا حَتَّى شَبِعْنَا، وَاكْتَلْنَا حَتَّى اسْتَوْفَيْنَا. قَالَ: ثُمَّ قَالَ: ثُمَّ قَدِمْنَا الْمَدِينَةَ مِنَ الْغَدِ، فَإِِذَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَائِمٌ يَخْطُبُ عَلَى الْمِنْبَرِ وَهُوَ يَقُولُ: " يَدُ الْمُعْطِي يَدُ الْعُلْيَا، وَابْدَأْ بِمَنْ تَعُولُ: أُمَّكَ وَأَبَاكَ، أُخْتَكَ وَأَخَاكَ، ثُمَّ أَدْنَاكَ أَدْنَاكَ"، فَقَامَ رَجُلٌ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، هَؤُلاءِ بَنُو ثَعْلَبَةَ بْنِ يَرْبُوعٍ قَتَلُوا فُلانًَا فِي الْجَاهِلِيَّةِ، فَخُذْ لَنَا بِثَأْرِنَا مِنْهُ، فَرَفَعَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَدَيْهِ حَتَّى رَأَيْتُ بَيَاضَ إِِبْطَيْهِ، وَقَالَ:" أَلا لا تَجْنِي أُمٌّ عَلَى وَلَدٍ، أَلا لا تَجْنِي أُمٌّ عَلَى وَلَدٍ" .
سیدنا طارق بن عبداللہ محاربی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو ذوالمجاز کے بازار میں دیکھا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سرخ حلہ پہنا ہوا تھا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم یہ فرما رہے تھے: ”اے لوگو! «لَا إِلَهَ إِلَّا اللّٰهُ» ”اللہ کے سوا کوئی معبودِ برحق نہیں“ کہہ دو، تم کامیاب ہو جاؤ گے۔“ ایک شخص آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے پیچھے آ رہا تھا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو پتھر مارتا جا رہا تھا، اس نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی پنڈلیوں اور ٹخنوں کو لہولہان کر دیا تھا اور وہ یہ کہہ رہا تھا: ”اے لوگو! تم اس کی بات نہ مانو، یہ جھوٹ بولتا ہے۔“ (راوی کہتے ہیں:) میں نے دریافت کیا کہ یہ کون صاحب ہیں؟ تو بتایا گیا کہ یہ بنو عبدالمطلب سے تعلق رکھنے والے ایک نوجوان ہیں، میں نے دریافت کیا کہ جو شخص ان کے پیچھے آ کر انہیں پتھر مار رہا ہے وہ کون ہے؟ تو اس نے بتایا کہ یہ عبدالعزیٰ ابولہب ہے۔ (راوی کہتے ہیں:) جب اسلام غالب آ گیا تو ہم روانہ ہوئے، یہاں تک کہ ہم مدینہ منورہ کے قریب ایک جگہ پر ٹھہر گئے، ہمارے ساتھ ایک عورت بھی تھی، ابھی ہم بیٹھے ہوئے تھے کہ اسی دوران ایک شخص ہمارے پاس آیا، اس نے دو سفید کپڑے پہنے ہوئے تھے، اس نے سلام کیا اور دریافت کیا: ”آپ لوگ کہاں سے آئے ہیں؟“ ہم نے جواب دیا: ”ربذہ سے۔“ (راوی کہتے ہیں:) ہمارے ساتھ اونٹ بھی تھے، اس شخص نے دریافت کیا: ”کیا تم لوگ اس اونٹ کو فروخت کرو گے؟“ ہم نے جواب دیا: ”جی ہاں۔“ اس نے دریافت کیا: ”کتنے کے عوض؟“ ہم نے جواب دیا: ”کھجوروں کے اتنے اور اتنے صاع کے عوض۔“ راوی کہتے ہیں کہ اس شخص سے سودا طے کر لیا اور اس نے ہمیں قیمت کم کرنے کے لیے نہیں کہا، وہ بولا: ”میں یہ لے لیتا ہوں“، پھر وہ (اس اونٹ کو لے کر) مدینہ کے اندر چلے گئے اور (ہم سے اوجھل ہو گئے)، ہم نے ایک دوسرے کو ملامت کرنا شروع کی اور کہا: ”تم نے اپنا اونٹ ایک ایسے شخص کو دے دیا ہے جس سے تم واقف ہی نہیں ہو۔“ راوی کہتے ہیں کہ اس عورت نے کہا: ”تم لوگ ایک دوسرے کو ملامت نہ کرو، کیونکہ میں نے ان صاحب کے چہرے پر ایک ایسی چیز دیکھی ہے کہ وہ تمہیں رسوائی کا شکار نہیں کریں گے، میں نے ایسی کوئی چیز نہیں دیکھی جو ان کے چہرے سے زیادہ چودھویں رات کے چاند سے مشابہت رکھتی ہو۔“ راوی کہتے ہیں کہ جب شام کا وقت ہوا تو ایک شخص ہمارے پاس آیا، اس نے ہمیں سلام کیا اور بولا: ”میں اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کا پیغام رساں ہوں، وہ یہ فرما رہے ہیں کہ تمہیں اس بات کا حق حاصل ہے کہ تم اس طرح کھاؤ کہ سیر ہو جاؤ اور اتنا ماپ لو کہ پوری ادائیگی کر لو۔“ راوی کہتے ہیں کہ ہم نے کھایا یہاں تک کہ ہم سیر ہو گئے، پھر ہم نے ماپ لیا، یہاں تک کہ ہم نے پوری وصولی کر لی، پھر ہم اگلے دن مدینہ منورہ کے اندر آئے تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اپنے منبر پر کھڑے ہو کر خطبہ دے رہے تھے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم یہ ارشاد فرما رہے تھے: ”دینے والا ہاتھ اوپر والا ہے اور تم اپنے زیرِ کفالت افراد سے خرچ کا آغاز کرو؛ تمہاری ماں، تمہارا باپ، تمہاری بہن اور تمہارا بھائی ہے، پھر درجہ بہ درجہ قریبی لوگ ہیں۔“ پھر ایک شخص کھڑا ہوا اس نے عرض کی: ”یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! بنو ثعلبہ بن یربوع نے زمانہ جاہلیت میں فلاں شخص کو قتل کر دیا تھا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہمیں اس سے بدلہ دلوائیں۔“ تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے دونوں ہاتھ بلند کیے یہاں تک کہ میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی بغلوں کی سفیدی دیکھ لی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”خبردار! ماں بچے کی غلطی کی سزا نہیں بھگتے گی، خبردار! ماں بچے کے جرم کا تاوان ادا نہیں کرے گی۔“ [صحیح ابن حبان/كِتَابُ التَّارِيخِ/حدیث: 6562]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه ابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 159، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 3341، 6562، والحاكم فى (مستدركه) برقم: 4242، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 2531، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 2670، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 358، 11215، والدارقطني فى (سننه) برقم: 2976» «رقم طبعة با وزير 6528»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح - «الإرواء» (834)، «مشكلة الفقر» (44). تنبيه هام!! في «طبعة باوزير» «لِيَخْفِرََكُمْ» بدلا من «لِيَحْقِرَكُمْ» وكتب الشيخ تعليق على هذه اللفظة فقال: [من (الخفر)، والأصل: (ليحقركم)! وهو خطأ، انظر «صحيح الموارد» (28 - مغازي / 1401 - 1683)]. - مدخل بيانات الشاملة -. فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط Null