صحیح ابن حبان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
408. باب كتب النبي صلى الله عليه وسلم - ذكر صبر المصطفى صلى الله عليه وسلم على أذى المشركين وشفقته على أمته باحتساب الأذى في الرسالة-
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے خطوط (مکاتیب) کا بیان - ذکر کہ مصٹفٰی صلی اللہ علیہ وسلم نے مشرکین کی ایذاء پر صبر کیا اور رسالت میں ایذاء کے حساب سے اپنی امت پر شفقت کی
حدیث نمبر: 6561
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ قُتَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى ، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنَا يُونُسُ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، أَخْبَرَنِي عُرْوَةُ ، أَنَّ عَائِشَةَ قَالَتْ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: هَلْ أَتَى عَلَيْكَ يَوْمٌ كَانَ أَشَدَّ عَلَيْكَ مِنْ يَوْمِ أُحُدٍ؟ قَالَ:" لَقَدْ لَقِيتُ مِنْ قَوْمَكِ، وَكَانَ أَشَدُّ مَا لَقِيتُ مِنْهُمْ يَوْمَ الْعَقَبَةِ، إِِذْ عَرَضْتُ نَفْسِي عَلَى ابْنِ عَبْدِ يَالِيلَ بْنِ عَبْدِ كُلالٍ، فَلَمْ يُجِبْنِي إِِلَى مَا أَرَدْتُ، فَانْطَلَقْتُ وَأَنَا مَهْمُومٌ عَلَى وَجْهِي، فَرَفَعْتُ رَأْسِي، فَإِِذَا أَنَا بِسَحَابَةٍ قَدْ أَظَلَّتْنِي، فَنَظَرْتُ، فَإِِذَا فِيهَا جِبْرِيلُ عَلَيْهِ السَّلامُ، فَنَادَانِي، فَقَالَ: إِِنَّ اللَّهَ قَدْ سَمِعَ قَوْلَ قَوْمِكَ لَكَ، وَمَا رَدُّوا عَلَيْكَ، وَقَدْ بَعَثَ إِِلَيْكَ مَلَكُ الْجِبَالِ لِتَأْمُرَ بِمَا شِئْتَ فِيهِمْ، قَالَ: فَنَادَانِي مَلَكُ الْجِبَالِ وَسَلَّمَ عَلَيَّ، ثُمَّ قَالَ: يَا مُحَمَّدُ، إِِنَّ اللَّهَ قَدْ سَمِعَ قَوْلَ قَوْمِكَ لَكَ، وَأَنَا مَلَكُ الْجِبَالِ، وَقَدْ بَعَثَنِي رَبُّكَ إِِلَيْكَ لِتَأْمُرَنِي بِأَمْرِكَ، إِِنْ شِئْتَ أَنْ أُطْبِقَ عَلَيْهِمُ الأَخْشَبَيْنِ"، فقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" بَلْ أَرْجُو أَنْ يُخْرِجَ اللَّهُ مِنْ أَصْلابِهِمْ مَنْ يَعْبُدُ اللَّهَ وَحْدَهُ لا يُشْرِكُ بِهِ شَيْئًا" .
سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں عرض کی: ”کیا آپ پر کوئی ایسا دن بھی آیا جو احد کے دن سے زیادہ سخت ہو؟“ تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”مجھے تمہاری قوم کی طرف سے جس سب سے زیادہ تکلیف دہ صورت حال کا سامنا کرنا پڑا وہ عقبہ کے دن تھی، جب میں نے ابنِ عبدِ یالیل بن کلال کو (اسلام کی) دعوت دی تو میری جو خواہش تھی اس نے اس کے مطابق مجھے جواب نہیں دیا۔ میں پریشانی کے عالم میں جا رہا تھا، میں نے اپنا سر اٹھایا تو وہاں ایک بادل نے مجھ پر سایہ کیا ہوا تھا۔ جب میں نے جائزہ لیا تو اس میں سیدنا جبرائیل علیہ السلام موجود تھے۔ انہوں نے مجھے بلند آواز میں پکارا اور کہا: آپ کی قوم نے جو آپ کو جواب دیا ہے، اللہ تعالیٰ نے اسے سن لیا ہے اور انہوں نے جو ردعمل ظاہر کیا ہے (وہ دیکھ لیا ہے)، اللہ تعالیٰ نے پہاڑوں کے فرشتے کو آپ کی طرف بھیجا ہے، آپ ان لوگوں کے بارے میں اسے جو چاہیں حکم دے دیں۔“ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: ”تو پہاڑوں کے فرشتے نے مجھے مخاطب کیا، اس نے مجھ پر سلام بھیجا اور پھر بولا: اے محمد صلی اللہ علیہ وسلم ! آپ کی قوم نے آپ کو جو کہا ہے، اللہ تعالیٰ نے اسے سن لیا ہے، میں پہاڑوں کا فرشتہ ہوں۔ آپ کے پروردگار نے مجھے آپ کی طرف بھیجا ہے تاکہ آپ مجھے اپنی مرضی کے مطابق حکم دیں، اگر آپ چاہیں تو میں یہ پہاڑ ان پر الٹ دوں۔“ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”(جی نہیں) مجھے یہ امید ہے کہ اللہ تعالیٰ ان کی پشتوں میں سے ان لوگوں کو پیدا کرے گا جو صرف اللہ کی عبادت کریں گے اور کسی کو اس کا شریک نہیں ٹھہرائیں گے۔“ [صحیح ابن حبان/كِتَابُ التَّارِيخِ/حدیث: 6561]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 3231، 7389، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 1795، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 6561، والنسائي فى (الكبریٰ) برقم: 7659، والبزار فى (مسنده) برقم:، والطبراني فى (الأوسط) برقم: 8902» «رقم طبعة با وزير 6527»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح - «بداية السول» (ص 68). فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط Null