صحیح ابن حبان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
426. باب كتب النبي صلى الله عليه وسلم - ذكر بعض ما كان يقاسي المصطفى صلى الله عليه وسلم من المنافقين بالمدينة-
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے خطوط (مکاتیب) کا بیان - ذکر کہ مصطفٰی صلی اللہ علیہ وسلم نے مدینہ میں منافقین سے کچھ مشقتیں برداشت کیں
حدیث نمبر: 6581
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ قُتَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي السَّرِيِّ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ عُرْوَةَ ، عَنْ أُسَامَةَ بْنِ زَيْدِ بْنِ حَارِثَةَ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" رَكِبَ حِمَارًا وَعَلَيْهِ إِِكَافٌ وَتَحْتَهُ قَطِيفَةٌ، فَرَكِبَ وَأَرْدَفَ أُسَامَةَ بْنَ زَيْدٍ وَهُوَ يَعُودُ سَعْدَ بْنَ مُعَاذٍ فِي بَنِي الْحَارِثِ بنِ الْخَزْرَجِ، وَذَلِكَ قَبْلَ وَقْعَةِ بَدْرٍ، حَتَّى مَرَّ بِمَجْلِسٍ فِيهِ أَخْلاطٌ مِنَ الْمُسْلِمِينَ وَالْمُشْرِكِينَ وَعَبْدَةُ الأَوْثَانِ وَالْيَهُودُ، وَمِنْهُمْ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي سَلُولٍ، وَفِي الْمَجْلِسِ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ رَوَاحَةَ، فَلَمَّا غَشِيَتِ الْمَجْلِسَ عَجَاجَةُ الدَّابَّةِ، خَمَّرَ عَبْدُ اللَّهِ أَنْفَهُ بِرِدَائِهِ، ثُمَّ قَالَ: لا تُغَبِّرُوا عَلَيْنَا، فَسَلَّمَ عَلَيْهِمُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَوَقَفَ عَلَيْهِمْ، فَدَعَاهُمْ إِِلَى اللَّهِ، وَقَرَأَ عَلَيْهِمُ الْقُرْآنَ، فَقَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أُبَيِّ ابْنِ سَلُولٍ: أَيُّهَا الْمَرْءُ، لأَحْسَنُ مِنْ هَذَا إِِنْ كَانَ مَا تَقُولُ حَقًّا، فَلا تُؤْذِنَا فِي مَجَالِسِنَا، وَارْجِعْ إِِلَى رَحْلِكَ، فَمَنْ جَاءَكَ مِنَّا فَاقْصُصْ عَلَيْهِ، فَقَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ رَوَاحَةَ: بَلِ اغْشَنَا فِي مَجَالِسِنَا، فَإِِنَّا نُحِبُّ ذَلِكَ، فَاسْتَبَّ الْمُسْلِمُونَ وَالْمُشْرِكُونَ وَالْيَهُودُ حَتَّى هَمُّوا أَنْ يَثُورُوا، فَلَمْ يَزَلِ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُخَفِّضُهُمْ حَتَّى سَكَتُوا، ثُمَّ رَكِبَ دَابَّتَهُ، فَدَخَلَ عَلَى سَعْدِ بْنِ مُعَاذٍ، وَقَالَ: أَلَمْ تَسْمَعَ مَا قَالَ أَبُو حُبَابٍ؟ يُرِيدُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ أُبِيٍّ، قَالَ كَذَا وَكَذَا، قَالَ سَعْدٌ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، اعْفُ، فَوَاللَّهِ لَقَدْ أَعْطَاكَ اللَّهُ، وَلَقَدِ اصْطَلَحَ أَهْلُ هَذِهِ الْبُحَيْرَةِ عَلَى أَنْ يُتَوِّجُوهُ بِالْعِصَابَةِ، فَلَمَّا رَدَّ اللَّهُ ذَلِكَ بِالْحَقِّ الَّذِي أَعْطَاكَهُ، شَرِقَ بِذَلِكَ، فَذَلِكَ الَّذِي عَمِلَ بِهِ مَا رَأَيْتَ، فَعَفَا عَنْهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" .
سیدنا اسامہ بن زید بن حارثہ رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم گدھے پر سوار ہوئے جس پر پالان موجود تھا اور اس کے نیچے چادر تھی۔ آپ نے سیدنا اسامہ بن زید رضی اللہ عنہما کو اپنے پیچھے بٹھا لیا۔ آپ سیدنا سعد بن معاذ رضی اللہ عنہ کی عیادت کرنے کے لیے بنو حارث کے محلے کی طرف تشریف لے گئے۔ یہ غزوہ بدر سے پہلے کا واقعہ ہے۔ آپ کا گزر ان کی ایک محفل سے ہوا جس میں کچھ مسلمان اور مشرکین، بتوں کے پجاری اور یہودی بیٹھے ہوئے تھے۔ ان میں عبداللہ بن ابی بھی تھا۔ اس محفل میں سیدنا عبداللہ بن رواحہ رضی اللہ عنہ بھی موجود تھے۔ جب اس جانور کے پاؤں کی غبار اس محفل تک پہنچی تو عبداللہ نے اپنی چادر اپنی ناک پر رکھ لی، پھر اس نے کہا: ”ہم پر غبار نہ اڑائیں۔“ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان لوگوں کو سلام کیا، ان لوگوں کے پاس ٹھہر گئے، آپ نے ان لوگوں کو اللہ کی طرف آنے کی دعوت دی اور ان کے سامنے قرآن کی تلاوت کی، تو عبداللہ بن اُبی نے کہا: ”اے صاحب! آپ جو باتیں کر رہے ہیں، اگر وہ سچی ہیں تو زیادہ مناسب یہ ہے کہ آپ ہمیں ہماری محفل میں تکلیف نہ پہنچائیں۔ آپ اپنی رہائشی جگہ پر تشریف لے جائیں، ہم میں سے جو شخص آپ کے پاس آیا کرے آپ اس کے سامنے یہ سب کچھ بیان کر دیا کریں۔“ اس پر سیدنا عبداللہ بن رواحہ رضی اللہ عنہ نے کہا: ”بلکہ آپ ہمارے ہاں ہماری محفل میں تشریف لایا کریں، ہمیں یہ بات پسند ہے۔“ اس بات پر مسلمانوں، مشرکین اور یہودیوں کے درمیان تکرار ہو گئی، یہاں تک کہ ان لوگوں نے لڑنے کا ارادہ کر لیا۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم انہیں مسلسل خاموش کروانے کی کوشش کرتے رہے، یہاں تک کہ وہ لوگ خاموش ہو گئے، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اپنی سواری پر سوار ہوئے اور سیدنا سعد بن معاذ رضی اللہ عنہ کے ہاں تشریف لے آئے۔ آپ نے فرمایا: ”کیا تم نے سنا کہ ابوحباب نے کیا کہا ہے؟“ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی مراد عبداللہ بن ابی تھا، ”اس نے یہ یہ بات کہی ہے۔“ تو سیدنا سعد رضی اللہ عنہ نے عرض کی: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! آپ اس سے درگزر کیجیے۔ اللہ کی قسم! اللہ تعالیٰ نے آپ کو جو مرتبہ اور مقام عطا کیا ہے، اس سے پہلے یہاں کے رہنے والے لوگوں نے اس بات پر اتفاق کر لیا تھا کہ اسے یہاں کا بڑا سردار بنا دیں گے، لیکن جب اللہ تعالیٰ نے آپ کی تشریف آوری کے ذریعے اس کی یہ خواہش پوری نہیں کی تو وہ اس بات پر جل بھن گیا۔ اسی وجہ سے اس نے یہ طرزِ عمل اختیار کیا جو آپ نے ملاحظہ فرمایا ہے۔ (راوی کہتے ہیں:) تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس شخص سے درگزر کیا۔ [صحیح ابن حبان/كِتَابُ التَّارِيخِ/حدیث: 6581]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 2987، 4566، 5663، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 1798، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 6581، والنسائي فى (الكبریٰ) برقم: 7460، والترمذي فى (جامعه) برقم: 2702، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 6928، وأحمد فى (مسنده) برقم: 22181» «رقم طبعة با وزير 6547»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح - «تخريج فقه السيرة» (24): ق. فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط Null
حدیث نمبر: 6582
أَخْبَرَنَا أَبُو يَعْلَى ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ مُحَمَّدٍ النَّاقِدُ ، قَالَ: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ: كَسَعَ رَجُلٌ مِنَ الْمُهَاجِرِينَ رَجُلًَا مِنَ الأَنْصَارِ، فَقَالَ الأَنْصَارِيُّ: يَا لِلأَنْصَارِ، وَقَالَ الْمُهَاجِرِيُّ: يَا لِلْمُهَاجِرِينَ، قَالَ: فَسَمِعَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذَلِكَ، فَقَالَ: " مَا بَالُ دَعْوَى الْجَاهِلِيَّةِ؟"، فَقَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، رَجُلٌ مِنَ الْمُهَاجِرِينَ كَسَعَ رَجُلًَا مِنَ الأَنْصَارِ، فَقَالَ:" دَعُوهَا، فَإِِنَّهَا مُنْتِنَةٌ"، فَقَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أُبَيِّ بْنِ سَلُولٍ: قَدْ فَعَلُوهَا، لَئِنْ رَجَعْنَا إِِلَى الْمَدِينَةِ لَيُخْرِجَنَّ الأَعَزُّ مِنْهَا الأَذَلَّ، فَقَالَ عُمَرُ: دَعْنِي يَا رَسُولَ اللَّهِ أَضْرِبُ عُنُقَ هَذَا الْمُنَافِقِ، فَقَالَ:" دَعْهُ، لا يَتَحَدَّثُ النَّاسُ أَنَّ مُحَمَّدًا يَقْتُلُ أَصْحَابَهُ" ، قَالَ أَبُو حَاتِمٍ: قَوْلُهُ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" فَإِِنَّهَا مُنْتِنَةٌ"، يُرِيدُ: أَنَّهُ لا قِصَاصَ فِي هَذَا، وَكَذَلِكَ قَوْلُهُمْ: فَإِِنَّهَا ذَمِيمَةٌ وَمَا أَشْبَهَهَا.
سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ ایک مہاجر اور ایک انصاری نے ایک دوسرے کی پٹائی کی۔ انصاری نے کہا: ”اے انصار! (میری مدد کے لیے آؤ)“، مہاجر نے کہا: ”اے مہاجرین! (میری مدد کے لیے آؤ)“۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بات سن لی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یہ زمانہ جاہلیت کی طرح پکارنے کا کیا معاملہ ہے؟“ لوگوں نے عرض کی: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! ایک مہاجر نے ایک انصاری کو مارا ہے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”اس چیز کو چھوڑ دو کیونکہ یہ «مُنْتِنَةٌ» ”بودار“ ہے۔“ اس پر عبداللہ بن ابی نے کہا: ”انہوں نے ایسا کیا ہے، ﴿لَئِن رَّجَعْنَا إِلَى الْمَدِينَةِ لَيُخْرِجَنَّ الْأَعَزُّ مِنْهَا الْأَذَلَّ﴾ [سورة المنافقون: 8] ”جب ہم مدینہ واپس جائیں گے تو ہم میں سے عزت دار لوگ وہاں سے ذلیل لوگوں کو نکال دیں گے““، تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! آپ مجھے موقع دیجیے کہ میں اس منافق کی گردن اڑا دوں۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اسے چھوڑ دو ورنہ لوگ یہ کہیں گے کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم اپنے ساتھیوں کو قتل کروا دیتے ہیں۔“ (امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں:) نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان ”یہ چیز بودار ہے“ اس سے آپ کی مراد یہ تھی کہ اس میں قصاص نہیں ہوگا۔ اسی طرح لوگوں کا یہ کہنا: ”یہ چیز قابلِ مذمت ہے“ یا اس کی مانند جو دیگر الفاظ ہیں (ان سے یہی مراد ہے)۔ [صحیح ابن حبان/كِتَابُ التَّارِيخِ/حدیث: 6582]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 3518، 4905، 4907، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 2584، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 5990، 6582، والنسائي فى (الكبریٰ) برقم: 8812، والترمذي فى (جامعه) برقم: 3315، والدارمي فى (مسنده) برقم: 2795، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 17939، 20530، وأحمد فى (مسنده) برقم: 14691» «رقم طبعة با وزير 6548»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح - «الصحيحة» (3155): ق. فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط Null