🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

Join Whatsapp Channel
صحیح ابن حبان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرسالہ سے تلاش کل احادیث (7491)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربي لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربي لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

427. باب كتب النبي صلى الله عليه وسلم - ذكر وصف ما طب النبي صلى الله عليه وسلم بعد قدومه المدينة-
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے خطوط (مکاتیب) کا بیان - ذکر وصف کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مدینہ آنے کے بعد کیا علاج کیا
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 6583
أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ: سَحَرَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَهُودِيٌّ مِنْ بَنِي زُرَيْقٍ، يُقَالُ لَهُ: لَبِيدُ بْنُ الأَعْصَمِ، حَتَّى كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُخَيَّلُ إِِلَيْهِ أَنَّهُ يَفْعَلُ الشَّيْءَ وَمَا يَفْعَلُهُ، حَتَّى إِِذَا كَانَ ذَاتَ يَوْمٍ أَوْ ذَاتَ لَيْلَةٍ، دَعَا النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ثُمَّ دَعَا، ثُمَّ قَالَ:" يَا عَائِشَةُ، أَشَعُرْتِ أَنَّ اللَّهَ جَلَّ وَعَلا قَدْ أَفْتَانِي فِيمَا اسْتَفْتَيْتُهُ؟ قَدْ جَاءَنِي رَجُلانِ، فَجَلَسَ أَحَدُهُمَا عِنْدَ رَأْسِي، وَجَلَسَ الآخَرُ عِنْدَ رِجْلَيَّ، فَقَالَ الَّذِي عِنْدَ رِجْلَيَّ لِلَّذِي عِنْدَ رَأْسِي: مَا وَجَعُ الرَّجُلِ؟ قَالَ: مَطْبُوبٌ، قَالَ: وَمَنْ طَبَّهُ؟ قَالَ: لَبِيدُ بْنُ الأَعْصَمِ، قَالَ: فِي أَيِّ شَيْءٍ؟ قَالَ: فِي مُشْطٍ وَمُشَاطَةٍ وَجُفِّ طَلْعَةِ ذَكَرٍ، قَالَ: وَأَيْنَ هُوَ؟ قَالَ: فِي بِئْرِ ذِي ذَرْوَانَ"، قَالَ: فَأَتَاهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي أُنَاسٍ مِنْ أَصْحَابِهِ، ثُمَّ جَاءَ، فَقَالَ:" يَا عَائِشَةُ، فَكَأَنَّ مَاءَهَا نُقَاعَةُ الْحِنَّاءِ، وَلَكَأَنَّ نَخْلَهَا رُؤوسُ الشَّيَاطِينِ"، فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، فَهَلا أَحْرَقْتَهُ أَوْ أَخْرَجْتَهُ؟ قَالَ:" أَمَّا أَنَا، فَقَدْ عَافَانِيَ اللَّهُ، وَكَرِهْتُ أَنْ أُثِيرَ عَلَى النَّاسِ مِنْهُ شَيْئًا"، فَأَمَرَ بِهَا فَدُفِنَتْ .
سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ بنو زریق سے تعلق رکھنے والے ایک یہودی، جس کا نام لبید بن اعصم تھا، اس نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم پر جادو کر دیا، یہاں تک کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یوں محسوس ہوتا کہ آپ نے کوئی کام کیا ہے حالانکہ آپ نے وہ کام نہیں کیا ہوتا تھا، ایک دن اور ایک رات تک نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی یہی کیفیت رہی، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم دعا مانگتے رہے پھر دعا مانگتے رہے، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اے عائشہ! کیا تمہیں پتا ہے اللہ تعالیٰ نے مجھے اس چیز کا جواب دے دیا ہے جس کے بارے میں میں نے اس سے دریافت کیا تھا؟ میرے پاس دو آدمی (یعنی دو فرشتے) آئے، ان میں سے ایک میرے سرہانے بیٹھ گیا اور دوسرا میرے پاؤں کے قریب بیٹھ گیا، جو میرے پاؤں کے قریب بیٹھا تھا اس نے میرے سرہانے موجود شخص سے دریافت کیا: ان صاحب کو کیا تکلیف ہے؟ اس نے جواب دیا: ان پر جادو ہوا ہے، اس نے دریافت کیا: ان پر کس نے جادو کیا ہے؟ دوسرے نے جواب دیا: لبید بن اعصم نے، پہلے نے دریافت کیا: کس چیز میں کیا ہے؟ دوسرے نے جواب دیا: کنگھی میں اور کنگھی میں لگے ہوئے بالوں میں اور نر کھجور کے شگوفے میں، پہلے نے دریافت کیا: وہ کہاں ہے؟ دوسرے نے جواب دیا: ذی زروان کے کنویں میں ہے۔ راوی بیان کرتے ہیں کہ پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اپنے اصحاب میں سے کچھ لوگوں کے ہمراہ اس کنویں کے پاس آئے، جب آپ وہاں سے واپس تشریف لائے تو آپ نے فرمایا: اے عائشہ! اس کا پانی یوں تھا جیسے اس میں مہندی گھول دی گئی ہو اور وہاں کے کھجوروں کے درختوں کے سر شیطان کے سروں کی طرح تھے، میں نے عرض کی: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! آپ نے اسے جلوا کیوں نہیں دیا یا نکلوا کیوں نہیں دیا؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ نے مجھے عافیت عطا کی تو مجھے یہ بات اچھی نہیں لگی کہ اس کے حوالے سے لوگوں میں کوئی خرابی پیدا کروں، چنانچہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم کے تحت ان چیزوں کو دفن کر دیا گیا۔ [صحیح ابن حبان/كِتَابُ التَّارِيخِ/حدیث: 6583]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 3175، 3268، 5763، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 2189، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 6583، 6584، والنسائي فى (الكبریٰ) برقم: 7569، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 3545، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 16590، وأحمد فى (مسنده) برقم: 24874» «رقم طبعة با وزير 6549»

الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح: خ (3175).
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
Null
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں